غزہ میں قحط جبکہ امدادی ادارے ’انرا‘ کو مالی مشکلات کا سامنا
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کو مالی وسائل کے بحران کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں غزہ کے لوگوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
امریکہ سمیت بعض ممالک نے 'انرا' کے 12 اہلکاروں پر اسرائیل کے خلاف حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے یا ان کی حمایت کرنے کے الزامات پر ادارے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روک دی ہے۔ اس معاملے کی مکمل اور فوری تحقیقات جاری ہیں اور جن اہلکاروں پر یہ الزامات سامنے آئے ہیں انہیں ادارے نے معطل کر دیا ہے۔
'انرا' غزہ کی پٹی میں سب سے بڑا امدادی ادارہ ہے جو موجودہ حالات میں بھی 20 لاکھ سے زیادہ شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے انسانی امداد مہیا کر رہا ہے۔
علاقے میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ ادارے کی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جنہیں خوراک، پانی اور طبی امداد مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ دیگر شراکت داروں کو بھی ان کے امدادی کام میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ترجمان کرسچین لنڈمیئر نے کہا ہے کہ غزہ میں پناہ گاہوں اور طبی مراکز سمیت ہر سہولت 'انرا' کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کی اپیل کو دہراتے ہوئے عطیہ دہندگان سے کہا ہے کہ وہ 'انرا' کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو معطل نہ کریں۔ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے غزہ کے انتہائی ضرورت مند لوگ ہی متاثر ہوں گے۔
قحط کا خطرہ
غزہ میں اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارں کی کوششوں کے باوجود بہت سے لوگوں کو قحط کا خطرہ درپیش ہے۔ بعض لوگ خوراک اور ضروری اشیا حاصل کرنے کے امدادی قافلوں کو روک رہے ہیں۔ منگل کو جنوبی شہر خان یونس میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے۔
لنڈمیئر نے اس حوالے سے بتایا کہ ایک قافلہ نصر ہسپتال میں مریضوں اور طبی عملے کے لیے خوراک لے کر جا رہا تھا لیکن اسے بھوک کے ستائے لوگوں نے راستے میں ہی روک لیا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو خوراک کی کس قدر ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت کا شکار لوگوں میں تیزی سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے جبکہ علاقے میں بمباری اور عمارتوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ نصر ہسپتال کے قریب فائرنگ اور لڑائی کے نتیجے میں لوگوں کے لیے ہسپتال تک رسائی حاصل کرنا یا اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں رہا۔
متواتر نقل مکانی
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ شدید لڑائی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات کے بعد مزید بڑی تعداد میں لوگ اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
'اوچا' نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ غزہ میں نقل مکانی کا ایک اور سلسلہ جاری ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں۔ جنوبی غزہ میں گنجائش سے زیادہ لوگ آ چکے ہیں اور شمالی علاقے میں انسانی امداد تک رسائی انتہائی محدود ہے۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک علاقے میں بمباری اور زمینی حملوں میں 26,637 شہری ہلاک اور 65,387 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے بتایا ہے کہ اس جنگ میں اب تک اس کے 218 فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور 1,267 زخمی ہوئے ہیں۔