افغان خواتین پر نا ختم ہونے والی پابندیوں کا سلسلہ جاری، یو این رپورٹ
افغانستان میں خواتین کے حقوق سلب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران سیکڑوں خواتین کو نوکریاں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا اور ضروری خدمات تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) نے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نئی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر اور دسمبر 2023 کے درمیانی عرصہ میں چلغوزوں کی صفائی اور چھانٹی کے ایک مرکز میں تقریباً 400 خواتین کو نوکری چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح ایک بجلی گھر میں ملازمت کرنے والی 200 خواتین کی نوکری بھی ختم کر دی گئی۔
مشن نے بتایا ہے کہ مانع حمل اشیا خریدنے والی خواتین کو بھی گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کی تبلیغ اور برائی کی روک تھام) نے ایک طبی مرکز پر تعینات غیرشادی شدہ خواتین کو ہدایت دی کہ وہ شادی کریں بصورت دیگر انہیں نوکری کی اجازت نہیں ہو گی۔حکام کے مطابق غیرشادی شدہ خواتین کے لیے کام کرنا غیرمناسب ہے۔
بہت سی خواتین کو غیرشادی شدہ ہونے یا محرم کی غیر موجودگی کی وجہ سے بسوں پر سوار ہونے یا کام پر جانے سے روکا گیا۔
حجاب کا قانون اور گرفتاریاں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت کابل اور دیگر مقامات پر حجاب نہ اوڑھنے والی خواتین کی گرفتاری کے متعدد واقعات پیش آئے۔ایسی بیشتر خواتین کو ان کے محرم مردوں کی جانب سے دی گئی اس ضمانت پر رہا کر دیا گیا کہ آئندہ ان کی خواتین لازمی حجاب کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔
'یونیما' نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے حکام کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات حجاب سے متعلق احکامات سے بھی متضاد ہیں۔
ان احکامات کی رو سے حجاب کے قانون کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے والی خاتون کے محرم کو اس کی رہائش گاہ پر انتباہ جاری کیا جاتا ہے۔ دوسری خلاف ورزی پر حکام محرم کو اپنے پاس طلب کرتے ہیں۔ تیسری مرتبہ حجاب کے قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں خاتون کے محرم کو تین روز تک قید کیا جا سکتا ہے اور چوتھی مرتبہ اسے عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے۔
آزادی اظہار پر قدغن
'یونیما' نے مزید بتایا ہے کہ طالبان حکام اطلاعات کے حصول و تبادلے کے مواقع کو محدود کر کے آزادیء اظہار کے حق کو پامال کر رہے ہیں۔
14 دسمبر کو اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے یونیورسٹیوں اور نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ حنفی فقہ سے متضاد تمام کتابوں کو ہٹا دیں۔ ان میں شیعہ مسلک کی کتب، سیاسی جماعتوں اور سابقہ منتخب حکومت سے منسلک لوگوں کی لکھی گئی کتابیں اور دیگر مواد بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں، حقوق کے لیے کام کرنے والی چار خواتین اور ایک ریڈیو سٹیشن کے عملے کے تین ارکان کو ان کے کام کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔ اگرچہ ان میں سے پانچ افراد کو رہا کر دیا گیا تھا، لیکن ایک خاتون تاحال قید میں ہے اور ایک صحافی کو 12 ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔
جنگ کی باقیات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر اور دسمبر کے درمیان مختلف علاقوں میں گولہ بارود کی زد میں آ کر کم از کم 11 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے۔ یہ گولہ بارود افغانستان میں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگوں کی باقیات ہے۔ ہلاک و زخمی ہونے والے ان 62 افراد میں بچوں کی تعداد 49 ہے جن میں 41 لڑکے اور آٹھ لڑکیاں شامل ہیں۔