وباؤں کی روک تھام کا عالمی معاہدہ طے پانے میں تاخیر پر تشویش
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے عالمی معاہدے کے مسودے کو مئی تک حتمی شکل نہیں دی جا سکے گی۔
ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کے انتظامی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی شرائط طے کرنے میں بہت سے مسائل تاحال برقرار ہیں اور اتفاق رائے کے لیے بہت کم وقت باقی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ آئندہ ممکنہ وباؤں کا مقابلہ کرنے سے متعلق معاہدے اور بین الاقوامی طبی ضوابط میں ترامیم کرنے میں ناکامی کی صورت میں دنیا بہت بڑا موقع ضائع کر دے گی اور آنے والی نسلیں اس کوتاہی کو شاید کبھی معاف نہیں کریں گی۔
معاہدے کی اہمیت
ڈائریکٹر جنرل نے یہ انتباہ ایسے موقع پر جاری کیا ہے جب 'ڈبلیو ایچ او' کے رکن ممالک نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرنے اور اس پر بات چیت شروع کرنے کے لیے اتفاق کیا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد آئندہ وباؤں کی روک تھام، ان سے مقابلے کی تیاری اور ان کا قلع قمع کرنے کے کام کو بہتر بنانا ہے۔ اس معاہدے کی ضرورت کووڈ۔19 سے بڑے پیمانے پر ہونے والے انسانی اور معاشی نقصان کو دیکھتے ہوئے محسوس کی گئی تھی اور ارکان نے مئی تک اس کے مسودے پر اتفاق رائے قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ممالک کے مابین ایسے معاہدے قانونی وزن رکھتے ہیں اور ان کی پابندی کرنا سبھی پر لازم ہوتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ وباؤں سے تحفظ کے ذرائع تک مساوی رسائی یقینی بنائے گا۔ ان میں ویکسین، ذاتی تحفظ کا سازوسامان، اطلاعات، مہارتیں اور سبھی کے لیے طبی خدمات تک رسائی شامل ہیں۔