انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اپسٹین فائلز: سب کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ماہرین

انسانی حقوق ماہرین نے ماہرین نے متاثرین کی جرات کو سراہا ہے جو خطرات کے باوجود آگئے آئے اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔
© UNICEF/Pirozzi
انسانی حقوق ماہرین نے ماہرین نے متاثرین کی جرات کو سراہا ہے جو خطرات کے باوجود آگئے آئے اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔

اپسٹین فائلز: سب کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ماہرین

انسانی حقوق

امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے خلاف نوعمر لڑکیوں کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمے میں عدالتی ریکارڈ سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں۔

ایک ہزار صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویزات سے جیفری ایپسٹن کے مبینہ جرائم کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے جنسی بدسلوکی، استحصال، جنسی زیادتی، جنسی مقاصد کے لیے انسانی سمگلنگ، غلامی اور تشدد کے علاوہ خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگی جیسے جرائم کا ارتکاب کیا۔

Tweet URL

ایپسٹن اگست 2019 میں اپنے خلاف مقدمے کی کارروائی سے پہلے نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گے تھے۔ 

اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر ریم السالم اور ماما فاطمہ سنگھاتا نے نوعمر متاثرین کے استحصال اور کئی سال تک ان جرائم پر کوئی کارروائی نہ ہونے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس معاملے میں گیسلین میکسویل نامی خاتون بھی ایپسٹن کے جرائم میں شریک تھیں جو اب قید کاٹ رہی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ نفاذ قانون کے نظام اور عدالتوں کی جانب سے اس معاملے میں کی جانے والی کارروائی مستقبل کے لیے اہم مثال قائم کرے گی۔ اس سے یا تو یہ پیغام جائے گا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے جرائم ناقابل قبول ہیں یا اس امر کی توثیق ہو جائے گی کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد اپنی طاقت اور روابط کی بنا پر احتساب سے بچ سکتے ہیں۔ 

فوری تحقیقات کا مطالبہ

ماہرین نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ان جرائم میں شریک یا مددگار اور معاون لوگوں بشمول جنسی تعلق اور اس مقصد کے لیے متاثرین مہیا کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مجرمانہ کارروائیوں کی نوعیت اور بین الاقوامی سطح پر جاری تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے نفاذ قانون کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ ان جرائم پر عدالتی کارروائی بھی جلد از جلد شروع کی جانی چاہیے۔

عدالتی دستاویزات میں 150 سے زیادہ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں سے بعض کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایپسٹن اور ان کے نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ دیگر میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا ان جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے نام ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کا حصہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور حوالے سے ان دستاویزات میں شامل ہیں۔

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر ریم السالم۔
UN Photo/Rick Bajornas
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر ریم السالم۔

متاثرین کو خراج تحسین

دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے استحصال کو روکنے میں ناکامی کا اظہار ہیں۔ ان جرائم پر پیشگی اقدامات اور احتساب کے ذریعے فوری طور پر قابو پایا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ ماہرین نے اس جرم کے متاثرین کی جرات کو سراہا ہے جو خطرات کے باوجود آگئے آئے اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔ ماہرین نے ان لوگوں کی نجی زندگی کو تحفظ دینے اور انہیں بدنامی و تکالیف سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

انہوں نے اس معاملے میں گواہوں اور متاثرین کے تحفظ کی اہمیت پر بھی واضح کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تکالیف کے ازالے اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے جامع اقدامات کیے جانا چاہئیں جن میں متاثرین کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ 

ایپسٹن کی موت اور فرد جرم

جیفری ایپسٹن کو جولائی 2019 میں جنسی مقاصد کے لیے انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2008 میں ایسے ہی جرائم کے الزام میں ایک قانونی معاہدے کے تحت انہیں 13 ماہ قید کی سزا دی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کی بدولت وہ عمر قید کی سزا سے بچ نکلے تھے۔

ان کی ساتھی اور برطانوی شہری گیسلین میکسویل کو دسمبر 2021 میں جنسی جرائم کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔ جون 2022 میں انہیں 20 سال قید کی سزا دی گئی تھی

خصوصی اطلاع کار

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور اس کی وجوہات و نتائج سے متعلق امور پر خصوصی اطلاع کار ریسم السالم اور بچوں کی خریدوفروخت، جنسی استحصال اور زیادتی کی روک تھام پر خصوصی اطلاع کار ماما فاطمہ سنگھاتا آزاد حیثیت میں کام کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ ورکنگ گروپ بھی مخصوص ممالک میں اسی موضوع پر مسائل کی نگرانی کرتے اور اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ 

یہ ماہرین یا اطلاع کار آزادانہ طور سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ نہ تو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ ہیں اور نہ ہی اپنے کام کا کوئی معاوضہ وصول کرتے ہیں۔