پاکستان میں پولیو کے واقعات میں اضافہ صحت عامہ کے لیے باعث تشویش
پاکستان میں پولیو کا خاتمہ کرنے کا خواب تاحال تعبیر نہیں پا سکا۔ گزشتہ برس ملک میں پولیو کے چھ کیس سامنے آئے اور پانی کے 112 نمونوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو نے پاکستان اور افغانستان پر پولیو کے حوالے سے سفری پابندیاں برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔ ان پابندیوں کے تحت ملک سے باہر جانے والوں کے لیے پولیو کی ویکسین لینا لازمی ہو گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولیو سے وابستہ غلط فہمیوں کے باعث لوگوں کا بچوں کو ویکسین پلانے سے گریز اس بیماری کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین آمدورفت پولیو کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ رہی ہے۔ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی سے افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ برس ضلع بنوں میں تین، اورکزئی میں ایک اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے دو بچوں میں یہ وائرس پایا گیا ہے۔ کراچی کا شمار ملک میں پولیو کے حوالے سے انتہائی خطرات کے حامل شہروں میں بھی ہوتا ہے۔
اس وقت دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی ایسے ملک ہیں جہاں یہ مرض موجود ہے۔ کسی ملک کو اسی وقت پولیو سے پاک قرار دیا جاتا ہے جب وہاں تین سال تک اس بیماری کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آئے۔
پاکستان میں پولیو
سال بہ سال پاکستان میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ لیکن اب تک کوئی ایسا برس نہیں گزرا جب ملک میں اس وائرس کا کوئی نیا مریض سامنے نہ آیا ہو یا پانی کے نمونوں میں اس وائرس کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔
2022 میں مجموعی طور پر 20، 2021 میں ایک، 2020 میں 84، 2019 میں 147 اور 2018 میں نئے افراد میں پولیو کی تشخیص ہوئی تھی۔
گزشتہ سال ملک بھر میں 40 یونین کونسلوں کو پولیو کے پھیلاؤ سے متعلق انتہائی خدشات کی حامل قرار دیا گیا۔ یہ علاقے خیبرپختونخوا میں پشاور، سندھ میں کراچی اور بلوچستان میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کا حصہ ہیں۔ ان علاقوں سے وابستہ اس خدشے کی بڑی وجوہات میں گنجان آبادی، بنیادی سہولیات کا فقدان، کئی طرح کے طبی مسائل اور ان کے نتیجے میں جسمانی قوت مدافعت کی کمی خاص طور پر نمایاں ہیں۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر پولیو کے خاتمے کی کوششوں کا آغاز تقریباً 25 برس پہلے ہوا تھا۔ ملک میں جاری انسداد پولیو پروگرام کے تحت ہر سال چلائی جانے والی انسداد پولیو مہمات میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو چند ماہ کے وقفوں سے متواتر پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائے جاتے ہیں۔
اس پروگرام میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، عالمی ادارہ اطفال (یونیسف)، روٹری انٹرنیشنل اور بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن حکومتِ پاکستان کے شراکت دار ہیں۔
طبی کارکنوں کی سلامتی کا مسئلہ
پاکستان میں پولیو کا اب تک خاتمہ نہ ہونے میں متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں غربت، ناخواندگی اور ان سے جڑے سماجی رویے، پولیو ویکسین کے بارے میں معلومات کی کمی، ویکیسن سے متعلق بے بنیاد مفروضوں اور افواہوں کا پھیلاؤ، پولیو ٹیموں کو درپیش سلامتی کے مسائل، کڑے موسمی حالات، دشوار گزار علاقوں تک عدم رسائی اور پاک افغان سرحد پر غیرمنظم نقل و حرکت خاص طور پر اہم ہیں۔
پولیو ویکسین کے بارے میں معلومات کی کمی اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی افواہوں اور مفروضوں کے باعث بچوں کو پولیو ویکسین پلانے والوں کو سلامتی کے خدشات رہتے ہیں۔ پولیو مہم میں کام کرنے والے تقریباً 200 طبی کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں تقریباً 70 خواتین بھی شامل ہیں۔ ایسا تازہ ترین واقعہ 8 جنوری 2024 کو پولیو مہم کے دوران شمالی وزیرستان میں پیش آیا جب پولیو ٹیم پر فائرنگ میں اس کی حفاظت پر مامور 5 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
پولیو ویکسین سے گریز
ضلع خیبر میں بچوں کو پولیو ویکسین پلانے والی ایک ٹیم میں شامل زاہد خان کا کہنا ہے کہ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو پولیو ویکسین پلانا غیراخلاقی یا غیراسلامی کام ہے۔ ان کا خیال ہےکہ اس ویکسین سے بچوں میں تولیدی صلاحیت میں کمی یا دیگر جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ سب کچھ کرنا مذہبی طور پر غلط ہے۔
اسی علاقے میں کام کرنے والی ایک خاتون پولیو ورکر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں کام کے دوران اپنی سلامتی کے حوالے سے ہمیشہ خدشات رہتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے خطرناک علاقوں میں پولیو ٹیموں کے ساتھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں لیکن یہ سکیورٹی طبی کارکنوں کو لوگوں کا اعتماد نہیں دلا سکتی۔
پولیو مہم میں کام کرنے والے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ شہری مراکز سے دور اور دشوار گزار علاقوں میں گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانا آسان نہیں ہوتا۔ مشکل راستوں اور سخت گرمی، برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے شدید موسمی حالات کی وجہ سے کئی جگہوں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کئی مرتبہ ایسی جگہوں پر پولیو مہم روکنا پڑتی ہے۔
'غیرمحفوظ' سرحد
کئی مرتبہ پاکستان میں ملنے والے پولیو وائرس کی جینیاتی رپورٹ کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔ ماہرین اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پولیو وائرس پاکستان اور افغانستان کے مابین منتقل ہوتا رہتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کو اب تک پوری طرح منظم نہیں کیا جا سکا۔
انسداد پولیو کے لیے 'نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر' کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ تصدیق کرتے ہیں کہ سماجی رویوں اور معلومات کی کمی کے علاوہ طبی جانچ پڑتال کے بغیر پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمدورفت پولیو کے خاتمے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے انسداد پولیو پروگرام کے تحت ترتیب دی جانے والی حکمت عملی میں بہتری اور تبدیلی لانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے زیراہتمام انسداد پولیو کے لیے دنیا بھر میں جاری اقدام (جی پی ای آئی) نے 2023 میں پاکستان سے پولیو کے نئے کیس ختم کرنے کا ہدف طے کیا تھا۔ تاہم اب اس ادارے کے نگران بورڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم آئندہ تین برس تک پاکستان کا پولیو سے پاک ہونا ممکن نہیں ہے۔