بلوچستان میں آئی ایل او کی مدد سے بھٹہ مزدوروں کی پہلی یونین کا قیام
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے تعاون سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھٹہ مزدوروں کی پہلی یونین قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام کی بدولت ان محنت کشوں کو جبری مشقت سے نجات اور اچھے حالات کار کے لیے آجروں کے ساتھ اجتماعی سودے بازی میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں جبری مشقت کا شکار 23 لاکھ افراد کی بڑی تعداد اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرتی ہے۔ بلوچستان کا شمار پاکستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں ہوتا ہے جہاں دیگر صوبوں کے برعکس ان مزدوروں کے پاس متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا۔
'آئی ایل او' کا کہنا ہے کہ یونین کی بدولت بلوچستان کے بھٹہ مزدوروں کو سماجی تحفظ، صنفی بنیاد پر مساوی اجرتوں، کام کے دوران چھٹیوں کے حصول اور صنفی بنیاد پر تشدد سے نجات پانے میں بھی مدد ملے گی۔
پاکستان میں بھٹہ مزدوری بڑی حد تک غلامی کی ہی ایک شکل ہے۔ ان مزدوروں کو عام طور پر پیشگی رقم دے کر ملازمت پر رکھ لیا جاتا ہے جنہیں نہ تو طے شدہ اجرت ملتی ہے اور نہ ہی سوشل سکیورٹی میسر ہوتی ہے۔ آجر ان مزدوروں کو بھرتی کرتے وقت کام کا کوئی تحریری معاہدہ نہیں کرتے۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہو تو تب بھی مزدوروں کو اس کی شرائط کا علم نہیں ہو پاتا کیونکہ ان کی غالب اکثریت ناخواندہ ہوتی ہے۔
باوقار روزگار کا منصوبہ
بلوچستان میں بھٹہ مزدوروں کی یونین کا قیام کمزور طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے باوقار روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ 'آئی ایل او' کے زیراہتمام اس منصوبے پر کام کا آغاز 2019 میں ہوا جو 2023 میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔
اس منصوبے کے تحت جو اقدامات کیے گئے ان میں جبری مشقت اور بچہ مزدوری کی روک تھام بھی شامل ہے۔ اس ضمن میں بھٹہ مزدوروں کے حالات کار میں بہتری لانے کو خاص اہمیت دی گئی۔
'پاکستان میں 'آئی ایل او' کے سینئر پروگرام مینیجر صغیر بخاری نے یو این نیوز کو بتایا کہ ادارے نے بھٹہ مزدوروں کو ان کے حقوق سے آگاہی دینے کی مہم میں پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ذریعے تکنیکی مدد فراہم کی ہے۔ اس کا مقصد ان مزدوروں کو بنیادی قوانین اور اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی دینا اور قانونی دستاویزات تک رسائی و سماجی تحفظ کی خدمات فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں کام کے باوقار حالات میسر آ سکیں۔
بھٹہ مزدوروں کی یونین کو رجسٹرڈ کرانا بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ اس اقدام میں بھی 'آئی ایل او' کو ورکرز فیڈریشن کا تعاون حاصل رہا جو اس منصوبے میں ادارے کا سماجی اور عملدرآمدی شراکت دار ہے۔
صغیر بخاری کا کہنا ہے کہ یونین بلوچستان میں ہر سطح پر بھٹہ مزدوروں کی اجتماعی آواز ثابت ہوئی ہے اور ان کے حقوق بشمول سرکاری سطح پر طے شدہ کم از کم اجرت اور بہتر حالات کار کے لیے آجروں کے ساتھ بات چیت میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
نسل در نسل غلامی
حیدر علی پاکستان کے شہر لاہور میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے ہیں۔ چار سال پہلے انہوں نے اپنے آجر سے 20 ہزار روپے قرض لیا تھا جسے وہ واپس نہیں کر سکے۔ رقم ادا کرنے تک وہ اسی جگہ کام پر مجبور ہیں۔
سخت گرمی ہو یا شدید سردی، حیدر کو روزانہ 1,000 اینٹیں تیار کرنا ہوتی ہیں۔ اگر وہ بیمار پڑ جائیں اور کام پر نہ آ سکیں تو ان دنوں کی دیہاڑی ان کے قرض میں شامل کر دی جاتی ہے۔ حکومت نے بھٹہ مزدوروں کے لیے 1,000 اینٹیں بنانے کی کم از کم اجرت 2,368 روپے مقرر کر رکھی ہے لیکن حیدر کو کبھی اپنے کام کا پورا معاوضہ نہیں ملا۔
پاکستان بھر میں اینٹوں کے 18 ہزار سے زیادہ بھٹے ہیں جہاں تقریباً 45 لاکھ مزدور حیدر علی جیسے حالات سے دوچار ہیں۔ یہ مزدور
بھٹوں کا دھواں ان مزدوروں میں پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اینٹوں کے لیے مٹی گوندھنے کے عمل میں ان کی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اگر کوئی مزدور کام کے دوران بیمار پڑ جائے تو اسے علاج معالجے کے لیے بھٹہ مالک سے کوئی مدد نہیں ملتی۔
بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو تعلیم کے مواقع بھی نہیں ملتے۔ ان کے کام کی جگہ پر بیت الخلا کی سہولت بھی نہیں ہوتی جس سے خاص طور پر خواتین مزدوروں کو ہراسانی اور جنسی استحصال کا خطرہ رہتا ہے۔
صوبہ پنجاب کی بھٹہ مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری محمد شبیر بتاتے ہیں کہ ان مزدوروں کو خوشی غمی جیسے مواقع پر اور علاج معالجے کے لیے اپنے آجروں سے سود قرض یا پیشگی اجرت لینا پڑتی ہے۔ قرض چکانے تک وہ بھٹہ چھوڑ کر کہیں اور کام نہیں کر سکتے۔ جب کوئی مزدور وفات پا جائے تو تب بھی اس کا قرض ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی اولاد کو منتقل ہو جاتا ہے۔
جن علاقوں میں بھٹہ مزدوروں کی تنظیمیں (یونین) فعال ہیں وہاں آجروں کے لیے ان کے حقوق سلب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جو مزدور یونین سے وابستہ ہوتے ہیں انہیں کچھ اور نہیں تو کم از کم جبری مشقت سے نجات ضرور مل جاتی ہے۔
آجروں کے استحصال کا توڑ
'آئی ایل او' کے مطابق اجتماعی سودے بازی مزدوروں کے لیے کام کی جگہوں پر مساوات اور شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے صنفی بنیاد پر اجرتوں میں فرق کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ طریقہ کام کے دوران چھٹیوں کا حق حاصل کرنے اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے میں بھی مددگار ہے۔
ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق 98 ممالک میں مجموعی طور پر ایک تہائی سے زیادہ (35 فیصد) محنت کشوں نے اجتماعی سودے بازی کے ذریعے بہتر اجرتوں کے حصول، کام کے اوقات اور حالات کار میں بہتری یقینی بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
محمد شبیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں جبری مشقت کے خلاف قانون تو موجود ہے لیکن اسے مزدور کے حق میں مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آجروں کے استحصال کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی آواز اٹھانا ہی بھٹہ مزدوروں کے حالات کار میں بہتری لانے کا واحد راستہ ہے اور یونین اس حوالے سے ایک موثر ذریعے کی حیثیت رکھتی ہے۔