مہاجرین کی زندگیاں بچانے کے لیے یو این کا نیا منصوبہ
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے تارکین وطن کو بد سلوکی اور مہلک حملوں سے تحفظ دینے اور انہیں مہاجرت کے محفوظ اور قانونی راستے مہیا کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔
اس حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے 'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ مہاجرین کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات اور اس کے اثرات میں کمی لانا بہت ضروری ہے۔ یہ مسئلہ اب ترک وطن کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔
افریقی ملک چاڈ کے شہر انجامینا میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگوں اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے باعث بہت بڑی تعداد میں لوگ مہاجرت اختیار کر رہے ہیں۔ سوڈان میں جاری تشدد سے بے گھر ہونے والے 70 لاکھ لوگوں میں سے بیشتر نے چاڈ میں ہی پناہ لی ہے۔
آئی او ایم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی حکمت عملی پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے مطابقت رکھتی ہے۔ ادارہ تارکین وطن، ان کے خاندانوں، مقامی لوگوں اور معاشروں کو ترقی میں مدد دینےکے لیے اختراع اور ٹیکنالوجی سے کام لے رہا ہے۔
ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جو مہاجرت کے مسئلے سے محفوظ ہو یا اس کا کسی طور اس سے تعلق نہ ہو۔