انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف ’نسل کشی‘ کے الزامات کی سماعت

عالمی عدالت انصاف نے ہیگ میں غزہ میں حالیہ اسرائیلی کارروائی پر جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے۔
UN News
عالمی عدالت انصاف نے ہیگ میں غزہ میں حالیہ اسرائیلی کارروائی پر جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے۔

غزہ: عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف ’نسل کشی‘ کے الزامات کی سماعت

امن اور سلامتی

جنوبی افریقہ نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کی سماعت نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جاری ہے۔ اس موقع پر جنوبی افریقہ کی قانونی ٹیم نے عدالت کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑنے کے بعد وہاں نسل کشی جیسے اقدامات کا ارتکاب کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاکتیں فلسطینیوں کی زندگی ختم کرنے کے مترادف ہیں۔ ان پر مسلط کی جانے والی یہ تباہی سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس سے نومولود بچوں سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں۔ 

شہریوں پر بے مثال تشدد

جنوبی افریقہ کی وکیل عدیلہ ہاشم نے عدالت میں کہا کہ غزہ کی 23 لاکھ آبادی پر فضا، زمین اور سمندر سے اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں لوگوں کے گھر اور اہم تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو ہر جگہ بے رحمانہ بم باری کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہےکہ بہت سے لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔ حملوں میں 60 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور معذور ہو گئے ہیں۔ 

اسرائیل نے بھوک اور بیماری کے نتیجے میں موت کے خطرے سے دوچار لوگوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی بھی روک رکھی ہے۔ متواتر بم باری کے باعث ان لوگوں تک مدد پہنچانا ممکن نہیں رہا۔

عدیلہ ہاشم نے کہا کہ لوگوں کو ان گھروں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں، سکولوں، مساجد، گرجا گھروں میں اور خوراک و پانی ڈھونڈنے کی کوشش میں ہلاک کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ انخلا کے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے، اگر وہ اسرائیل کی طے کردہ محفوظ راہداریوں کے ذریعے نقل مکانی کریں تو تب بھی ان کے لیے سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں۔ 

2,000 پاونڈ وزنی بموں سے حملے

جنوبی افریقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملوں کے جواب میں غزہ پر اسرائیل کی عسکری کارروائی کے پہلے ہفتے میں 6,000 بم برسائے گئے۔ اس میں غزہ کے جنوبی علاقوں میں کم از کم 200 موقع پر 2,000 پاؤنڈ سے زیادہ وزنی بم بھی گرائے گئے جبکہ ان جگہوں کو محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ ایسے ہی حملے شمالی میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ نسل کشی کی پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی تاہم عدالت کے سامنے گزشتہ 13 ہفتوں کے جنگی حالات نسل کشی کے دعووں کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ 

انسداد نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی 

جنوبی افریقہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات انسداد نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے دوسری عالمی جنگ کے بعد انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے اس کنونشن کی منظوری دی تھی۔ 

جنوبی افریقہ کے ایک اور نمائندے جان ڈوگارڈ نے عدالت کو بتایا کہ کنونشن کا مقصد انسانیت کا تحفظ ہے اور اس پر دستخط کرنے والے تمام ممالک ناصرف نسل کشی کے اقدامات سے باز رہنے بلکہ اس کی روک تھام کے بھی پابند ہیں۔ 

جمعے کو اسرائیل کے وکلا عدالت میں اپنے دلائل دیں گے۔