سال 2024 میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان، آئی ایل او کا انتباہ
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے جبکہ عدم مساوات میں اضافے اور استعداد کار میں کمی کے باعث معاشی افق پر کئی طرح کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔
2024 میں روزگار اور سماجی امکانات کے رحجانات سے متعلق 'آئی ایل او' کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں افرادی قوت کا پانچ فیصد سے کچھ زیادہ حصہ بے روزگار ہے۔ اگرچہ یہ صورت حال کووڈ۔19 وبا سے پہلے کی نسبت بہتر کہی جا سکتی ہے تاہم اس کے برقرار رہنے کا امکان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 20 لاکھ افراد کو روزگار درکار ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق روزگار کے حوالے سے غیریقینی منظرنامے کے علاوہ مہنگائی کے سبب دنیا کے بیشتر امیر ترین ممالک میں بہتر طرز زندگی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ متعدد بڑی معیشتوں میں اس حوالے سے زوال پذیر اشاریے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے نتیجے میں معیار زندگی میں آنے والی اس کمی کا فوری طور پر ازالہ نہیں ہو سکتا۔
'آئی ایل او' کی رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج منگل کو جاری ہونے والی عالمی بینک کی نئی رپورٹ سے مطابقت رکھتے ہیں جس کے مطابق عالمی معیشت 30 برس میں نصف دہائی کی سست ترین رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
وسیع تر عدم مساوات
'آئی ایل او' کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے خبردار کیا ہے کہ زوال پذیر معیار زندگی، کمزور معاشی استعداد اور متواتر مہنگائی کے باعث عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور سماجی انصاف کے حصول کی کوششیں منفی طور سے متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے افرادی قوت سے متعلق مجموعی مسائل سے فوری اور موثر طور پر نمٹنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانےپر سماجی انصاف کے بغیر معیشت کی پائیدار بحالی ممکن نہیں۔
'آئی ایل او' کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ روزگار کی شرح کے حوالے سے بلند اور کم آمدنی والے ممالک کے مابین نمایاں فرق ہے۔ اگرچہ 2023 میں امیر ممالک میں روزگار میں کمی (کام تلاش کرنے والے بے روزگار افراد کی تعداد) کی شرح 8.2 فیصد رہی تاہم غریب ممالک میں یہ شرح 20.5 فیصد تک بلند دیکھی گئی۔
اسی طرح 2023 کے دوران امیر ممالک میں بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد پر جامد رہی جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ 5.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
غریب محنت کشوں کے حالات
اگرچہ 2020 کے بعد انتہائی درجے کی غربت (روزانہ 2.15 ڈالر سے کم فی کس آمدنی) میں رہنے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے۔ تاہم 2023 میں ان کی تعداد میں تقریباً 10 لاکھ تک اضافہ دیکھنے کو ملا۔
غیرمندرج معیشت سے نمٹنے کے لیے پالیسی کی سطح پر متعدد اقدامات کے باجود غیررسمی روزگار سے وابستہ لوگوں کی تعداد برقرار ہے۔ 2024 میں یہ عالمگیر افرادی قوت کا تقریباً 58 فیصد ہوں گے۔
معاشی رحجانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدنی میں عدم مساوات بھی بڑھ گئی ہے۔ قابل خرچ آمدنی میں کمی آئی ہے جو کہ داخلی سطح پر اشیائے صرف کی خریداری اور مزید پائیدار طور سے معاشی بحالی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔
وبا سے غیرمتوازن بحالی
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) گزشتہ سال مئی میں اعلان کر چکا ہے کہ کووڈ-19 صحت عامہ کے لیے ہنگامی نوعیت کا خطرہ نہیں رہی۔ تاہم 'آئی ایل او' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وبا کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ 'طویل مدتی کووڈ' سے متاثرہ یا صحت کے مسائل سے نبردآزما 20 فیصد افراد میں اس کے اثرات برقرار ہیں جنہوں نے ان کی استعداد کار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس کا اندازہ یوں بھی ہوتا ہے کہ وبا کے بعد افرادی قوت میں شامل ہونے والے ایسے بہت سے لوگوں کے کام کے دورانیے میں کمی آئی ہے۔ اسی طرح بیماری کے باعث چھٹیاں لینے کے رحجان میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے باوجود استعداد کار میں اضافہ سست رفتار ہے۔
برسرروزگار خواتین کی تعداد تیزرفتار سے دوبارہ بڑھی ہے تاہم نوکریوں میں صنفی فرق بدستور باقی ہے۔ خاص طور پر ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں یہ فرق نمایاں طور سے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح بھی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔