خوراک کی عالمی قیمتوں میں کمی کا رحجان، ایف اے او
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے اختتام پر خوراک کی قیمتوں کے اشاریے میں دسمبر 2022 کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں خوراک کی مہنگائی کے حوالے سے خدشات بھی قدرے کم ہو گئے ہیں۔
دسمبر 2023 میں بنیادی ضرورت کی غذائی اجناس کی تجارت میں بھی دسمبر 2022 کے مقابلے میں 1.5 فیصد کمی واقع ہوئی جس کا اوسط حجم 118.5 پوائنٹ ریکارڈ کیا گیا۔
چینی کی بین الاقوامی تجارت میں تیزی سے کمی دیکھی گئی جو دسمبر 2022 کے مقابلے میں تقریباً 16.6 فیصد کم رہی۔
2023 میں مجموعی تجارتی حجم 2022 کی قدر کے مقابلے میں 13.7 فیصد کم رہا۔ 2023 میں سال بھر صرف چینی کی قیمتوں کے اشاریے میں ہی گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
'ایف اے او' نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے اختتام پر چینی کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ برازیل میں اس کی تیزرفتار پیداوار رہی جس کے ساتھ انڈیا میں ایتھانول کی تیاری میں گنے کے استعمال میں بھی کمی آئی۔
دسمبر 2023 میں اناج کی قیمتوں کے اشاریے میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔ برآمدگان کو ترسیلات میں درپیش رکاوٹوں کے باعث گندم، مکئی، چاول اور جو کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ تاہم پورے سال میں اناج کی قیمتوں میں 2022 کے مقابلے میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔