انسانی کہانیاں عالمی تناظر

معاشی ترقی کے لیے عالمی تعاون ضروری، یو این رپورٹ

کرغستان کا ایک بازار جہاں مہنگائی کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
© IMF/Yam G-Jun
کرغستان کا ایک بازار جہاں مہنگائی کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

معاشی ترقی کے لیے عالمی تعاون ضروری، یو این رپورٹ

معاشی ترقی

دنیا کی معاشی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمگیر شرح نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2023 میں 2.7 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 کا زور ٹوٹنے کے بعد گزشتہ برس عالمگیر جی ڈی پی میں خلاف توقع بہتری نے عالمی معیشت کو لاحق مختصر مدتی خدشات اور اس کی کمزوریوں کو چھپائے رکھا۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اقتصادی و سماجی امور (یو این ڈیسا) نے 'عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات 2024' کے عنوان سے شائع کی ہے۔

Tweet URL

اس رپورٹ کے مطابق عالمگیر تجارت میں سست روی، قرضوں پر بلند شرح سود، بڑھتے ہوئے حکومتی قرض، سرمایہ کاری میں کمی، بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور موسمیاتی مسائل کے باعث مستقبل قریب میں معاشی حالات مایوس کن رہیں گے۔ 

معاشی دلدل سے نکلنے کا راستہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ 2024 کو معاشی دلدل سے نکلنے کا سال بنانا ہو گا۔ بڑے پیمانے پر اور جرات مندانہ سرمایہ کاری کی بدولت ہی پائیدار ترقی، موسمیاتی اقدامات کو کامیابی سے آگے بڑھانا اور تمام لوگوں کے لیے عالمی معیشت کو مضبوطی اور ترقی دینا ممکن ہو گا۔ 

انہوں نے زور دیا ہے کہ غریب ملکوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے سالانہ 500 ارب ڈالر کے پیکیج کی فراہمی کے لیے ٹھوس پیش رفت کرنا ہو گی۔ 

افراطِ زر میں کمی

2024 میں عالمگیر افراطِ زر 3.9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 2023 میں 5.7 فیصد تھی۔ تاہم، بہت سے ممالک میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہے گا جس میں جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی ترقی پذیر ممالک میں رواں سال افراط زر 10 فیصد سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

جنوری 2021 سے ترقی پذیر معیشتوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں 21.1 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے کووڈ۔19 کے بعد بحالی اور اقتصادی ترقی متاثر ہوئی ہے۔

علاقائی تفاوت

2024 میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کا جی ڈی پی 1.4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے جو 2023 میں 2.5 فیصد تھا۔ قرضوں پر بلند شرح سود اور دیگر اقتصادی وجوہات کےباعث صارفین کے اخراجات میں کمی کا امکان ہے جو ملکی  معیشت ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔

چین کو درپیش قومی و بین الاقوامی مسائل کے باعث اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو کر 4.7 فیصد تک رہ جائے گی جو 2023 میں 5.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

یورپی ممالک اور جاپان کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جہاں اس برس اقتصادی ترقی کی شرح 1.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انڈیا میں ترقی کی شرح 6.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 2023 میں 6.3 فیصد تھی۔

عالمگیر سرمایہ کاری

رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ماحول دوست توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے مستحکم اور ٹیکنالوجی سے مالا مال شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ جاری رہا ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک کو سرمائے کی واپسی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ان حالات کے پیش نظر غیریقینی معاشی صورتحال، قرضوں کے بوجھ اور شرح سود میں اضافے کے باعث عالمی سرمایہ کاری میں اضافے کی شرح کم رہے گی۔

بین الاقوامی تجارت

معاشی ترقی کو آگے بڑھانے میں بین الاقوامی تجارت نے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اب اس میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ 2023 میں بین الاقوامی تجارت کی شرح نمو 0.6 فیصد تک کم ہو گئی تھی جو 2024 میں 2.4 فیصد تک بحال ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کے اخراجات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے جو اشیا کی خریداری سے خدمات کے حصول کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ اخراجات جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی ترسیلات کے نظام میں خلل اور کووڈ۔19 وبا جیسے دھچکوں سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ 

اس کے علاوہ بعض ممالک میں معاشی شعبے میں تحفظ پسندانہ پالیسیاں اپنانے کی وجہ سے بھی تجارت پر اثر پڑا ہے۔ 

عالمی مالیات اور قرضے

ترقی پذیر ممالک بیرونی قرضوں کی بلند سطح اور بڑھتی ہوئی شرح سود سے نبردآزما ہیں جس سے سرمایے کی عالمی منڈیوں تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کم آمدنی والے ممالک میں ترقی یافتہ ممالک سے ملنے والی ترقیاتی امداد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرض کی پائیداری خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے جنہیں عالمی مالیاتی شعبے میں قرضوں کی بلند سطح اور بدلتے ہوئے معاشی حالات کے سبب مشکلات کا سامنا ہے۔