مالی سے یو این امن کاروں کا آخری دستہ مکمل انخلاء کے لیے تیار
مغربی افریقہ کے ملک مالی میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا مشن ایک دہائی تک کثیرالجہتی کوششوں کے بعد اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ ملکی حکومت نے اقوام متحدہ سے 31 دسمبر تک مشن کو واپس بلانے کی درخواست کر رکھی تھی۔
مالی میں استحکام کے لیے اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی مربوط مشن (مینوسما) کی تعیناتی 2013 میں ہوئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب علیحدگی پسند باغی ملک کے شمالی حصے پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا۔
'مینوسما' کا قیام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2100 کے ذریعے ہوا۔ یہ مشن 15 ہزار سے زیادہ فوجی و غیرفوجی عملے پر مشتمل تھا جس نے ملک بھر کے شہروں اور قصبات میں خدمات انجام دیں۔
اقوام متحدہ کا مشکل ترین مشن
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل 'مینوسما' کے اہلکاروں اور مشن کے سربراہ کے مشکور ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین اور ان کے ساتھیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ 'مینوسما' نے مالی میں شہریوں کو تحفط دینے اور امن عمل کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ مشن نے 2015 کے معاہدہ براے امن و مفاہمت کے تناظر میں جنگ بندی قائم رکھنے، ریاستی اختیار کی بحالی، سیاسی عمل اور قیام امن میں سہولت دی۔
'مینوسما' کو قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی مشکل ترین کارروائی بھی سمجھا جاتا ہے۔ دس برس میں مشن کے 311 اہلکار ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس دوران ملک کے شمالی اور مرکزی حصے میں انتہاپسندوں کی پُرتشدد سرگرمیاں اور عدم استحکام جاری رہا۔
مشن کا اختتام
کسی جگہ قیام امن کے مقصد سے خصوصی مشن بھیجنا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ تاہم سیاسی و عملی طور سے کوئی مشن میزبان ملک کی حمایت اور تعاون کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔
مالی کے وزیر برائے خارجہ امور نے 16 جون 2023 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک سے مینوسما کی واپسی کی درخواست کی تھی۔ اسی روز ملک کی عبوری حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں مشن کی ضرورت باقی نہیں رہی لہٰذا اسے واپس بلایا جائے۔
30 جون 2023 کو سلامتی کونسل نے متفقہ رائے سے قرارداد 2690 کی منظوری دی جس کے تحت 31 دسمبر 2023 تک اس کی واپسی کا عمل بتدریج مکمل کیا جانا تھا۔
'اقوام متحدہ موجود رہے گا'
مشن کی ایک مختصر ٹیم، چند فوجی دستے اور مختلف ممالک کی پولیس کی نفری گاؤ اور باماکو شہر میں موجود رہتے ہوئے اقوام متحدہ کے اثاثوں کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرے گی۔
'مینوسما' کے سربراہ الغسوم وین نے کہا ہے کہ مالی سے مشن کی واپسی ہو رہی ہے تاہم اقوام متحدہ ملک میں موجود رہے گا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ مالی کے لوگوں اور اس کی عبوری حکومت کے ساتھ مل کر دستوری نظام کی بحالی اور امن و سلامتی کے فروغ کا عزم رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں مشن کی بدولت بہت سے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئی۔
گزشتہ دہائی کے دوران مالی میں 'مینوسما' کے اقدامات کے بارے میں مزید جانیے