انسانی کہانیاں عالمی تناظر

وولکر ترک کو غزہ میں بھوک اور مغربی کنارے میں آبادکارانہ تشدد پر تشویش

مغربی کنارے کے الغنوب میں ایک عارضی خیمے کے اندر ایک فلسطینی خاندان، جس میں ایک باپ ایک شیر خوار اور کئی بچوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔
OCHA/Manal Massalha غزہ میں بمباری سے بے گھر ہونے والا ایک خاندان عارضی پناہ گاہ میں سر چھپائے ہوئے ہے۔

وولکر ترک کو غزہ میں بھوک اور مغربی کنارے میں آبادکارانہ تشدد پر تشویش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ غزہ جنگ کے پس منظر میں مقبوضہ مغربی کنارے کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ علاقے میں تشدد جس سطح پر پہنچ چکا ہے اس کی حالیہ برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے ذلت آمیز سلوک روا رکھا جا رہا ہے جہاں بہت سے اسرائیلی آباد کاروں کے اقدامات انتہائی پریشان کن ہیں جنہیں فوری روکا جانا چاہیے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے مغربی کنارے کے حالات بارے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل پر ایسے واقعات کی تحقیقات کے لیے زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال، نقل و حرکت پر پابندیاں اور آباد کاروں کے تشدد میں اضافے سے گلہ بان آبادیاں بے گھر ہو رہی ہیں۔ 

انہوں کہا ہے کہ ایسے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور فلسطینیوں کو کسی بھی طرح کی جبری نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ 

مہلک ترین سال

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے تصدیق کی ہے کہ 2005 میں انسانی نقصان کی تفصیلات جمع کرنے کا کام شروع ہونے کے بعد 2023 مغربی کنارے کے لیے اب تک مہلک ترین سال رہا۔

 وولکر تُرک کا کہنا ہے کہ نئی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو ماضی کی طرح تشدد کا سامنا ہے تاہم اب کے یہ پہلے سے زیادہ شدید ہے۔

 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں اور غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد مغربی کنارے میں 79 بچوں سمیت 300 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی اکثریت اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنی جبکہ آٹھ ہلاکتوں میں آباد کاروں کا ہاتھ تھا۔

قیدیوں کے خلاف تشدد

'او ایچ سی ایچ آر' نے 7 اکتوبر کے بعد مغربی کنارے کے مہاجر کیمپوں اور دیگر گنجان علاقوں میں بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بتایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصہ میں 40 صحافیوں سمیت 4,700 سے زیادہ فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ 

ان میں بعض قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، انہیں برہنہ کر کے آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور طویل وقت تک ہاتھوں اور پاؤں کو بیڑیوں میں جکڑ کر رکھا گیا۔ رپورٹ میں جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک قیدی کے جنسی اعضا پر ضربیں لگائی گئیں، متعدد کو جبراً برہنہ ہونے پر مجبور کیا گیا، ایک خاتون قیدی کے ساتھ بدزبانی کی گئی اور دو حاملہ خواتین کو جنسی زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔

فلسطینی خواتین اور بچے اکتوبر 2023 کو مغربی کنارے کے علاقے خیربٹ زانوٹا میں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے کے بعد دھات کی نالیدار چھت کو اکھاڑ کر ایک ٹرک پر لوڈ کر رہے ہیں۔
OCHA اسرائیلی آبادکاروں کی دھمکیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے کے علاقے نیبلس سے فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کے 254 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس اوسط سے روزانہ تقریباً 6 حملے ہو رہے ہیں جبکہ اِس سال کے آغاز میں یہ اوسط تین تھی۔ ان میں فائرنگ، گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے اور درخت اکھاڑنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ 

ایسے بیشتر واقعات میں آباد کاروں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کا تعاون بھی حاصل رہا یا وہ سکیورٹی فورسز کی وردی پہن کر اور ہتھیاروں کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔ علاقے میں زیتون کاشت کرنے والے فلسطینی کسانوں کے باغات پر حملوں، انہیں زمینوں سے زبردستی بے دخل کیے جانے، فصل چرائے جانے اور ان کے درختوں کی جڑوں میں زہر بھرنے جیسے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

وولکر تُرک نے آباد کاروں اور سکیورٹی فورسز کے عدم محاسبے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے ان کے دفتر کو ملک میں رسائی دے۔ 

غزہ: اموات میں اضافہ

'اوچا' نے بدھ کو غزہ پر فضا، زمین اور سمندر سے شدید بم باری کی اطلاع دی ہے جبکہ فلسطینی مسلح گروہ بھی اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ غزہ میں 19 لاکھ افراد یا علاقے کی 85 فیصد بے گھر ہے۔ اسرائیل کی جانب سے وسطی غزہ سے انخلا کے حکم سے ڈیڑھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں چھوٹے بچے، مائیں، معذور اور معمر افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں بچا۔ 

غزہ میں اسرائیل کی عسکری کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 21,110 ہو گئی ہے۔ علاقے میں طبی حکام کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد اب تک 55,243 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

صحت عامہ کی تباہی

'اوچا' نے بتایا ہے کہ خوراک اور بنیادی ضروریات زندگی کی قلت اور صحت و صفائی کے ناقص انتظام سے رہن سہن کے حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ ادارے نے پناہ گزینوں کی آبادیوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ گنجائش سے کہیں زیادہ بھری پناہ گاہوں میں وبائی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی برائے نام ہے اور سیکڑوں زخمی لوگ علاج معالجے سے محروم ہیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صحت عامہ کی تباہی کا عمل جاری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا عملہ غزہ کے الشفا ہسپتال میں مریضوں کو صحت کا سامان پہنچا رہا ہے۔
WHO ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں الشفا ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی خدمات میں اضافہ کرے گا۔

ہسپتالوں کو مدد کی فراہمی 

'ڈبلیو ایچ او' اور 'یونیسف' کی طبی ٹیموں نے منگل کو شمالی غزہ کے الشفا ہسپتال اور جنوب میں الامل فلسطین ہلال احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) ہسپتال کا دورہ کیا۔

ان ٹیموں نے الشفا ہسپتال میں طبی خدمات برقرار رکھنے کے لیے ایندھن پہنچایا اور عملے کو ضروری طبی سازوسامان بھی مہیا کیا گیا۔ غزہ کے مرکزی ادویہ خانے کو بھی طبی سامان اور ادویات فراہم کی گئی ہیں جہاں سے یہ دیگر ہسپتالوں کو بھی بھیجا جائے گا۔

'ڈبلیو ایچ او' کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق غزہ میں اس وقت 13 ہسپتال فعال ہیں جہاں جزوی خدمات ہی دستیاب ہیں۔ ان ہسپتالوں میں سے چار شمالی غزہ میں واقع ہیں جن کے پاس ادویات، خوراک اور پانی کی شدید قلت ہے۔ علاقے میں دیگر 21 ہسپتال غیرفعال ہو چکے ہیں۔ 

بھوک اور مایوسی

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ادارے کے عملے کے تحفظ اور امداد کے تسلسل کا دارومدار غزہ بھر میں خوراک کی فوری فراہمی پر ہے۔ امدادی کارکن بھی جنگ کے اثرات سے براہ راست اور ذاتی طور پر متاثر ہو رہے ہیں جنہیں آئے روز اپنے نقصانات کی دل شکن اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2070 سے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کی صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، غزہ میں زمینی حالات کو مدنظر رکھا جائے تو فی الوقت اس قرارداد کی عملی افادیت دکھائی نہیں دی۔ علاقے میں جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے تاکہ لوگ مزید تشدد سے محفوظ رہیں۔