ڈینگی دنیا بھر میں صحت عامہ کا خطرہ، سال میں 5000 ہلاکتیں
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اِس برس دنیا بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں حیران کن اضافہ صحت عامہ کو لاحق ممکنہ سنگین خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب یہ بیماری ایسے ممالک میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے اس سے محفوظ تھے۔
اِس سال دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ ڈینگی میں مبتلا ہوئے اور اس مرض سے پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
ڈینگی اس وائرس سے متاثرہ مچھروں کے کاٹے سے انسانوں میں منتقل ہونے والی سب سے عام وبائی بیماری ہے۔ یہ عام طور پر منطقہ حارہ اور ذیلی منطقہ حارہ کے ماحول میں شہری علاقوں میں پھیلتی ہے۔
عالمی حدت کا کردار
'ڈبلیو ایچ او' میں آربو وائرس سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے متعلق شعبے کی سربراہ ڈاکٹر ڈیانا روہس الواریز نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ڈینگی کا خطرہ بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' میں ہر سطح پر اقدامات درکار ہیں تاکہ ممالک کو ڈینگی کی حالیہ وبا پر قابو پانے اور آئندہ برس اس خطرے کی روک تھام میں مدد دی جا سکے۔
بڑی تعداد میں دنیا کے ممالک میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی حدت کے باعث متاثرہ مچھر اب مزید ممالک میں پرورش پا رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ہے کیونکہ اس سے بارشوں، نمی اور حدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان مچھروں کو نمو کے لیے سازگار ماحول میسر آتا ہے۔
ڈاکٹر الواریز نے بتایا کہ رواں سال ڈینگی کے تقریباً 80 فیصد مریض براعظم ہائے امریکہ میں سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد جنوبی مشرقی ایشیا اور مغربی بحرالکاہل کے خطے میں اس بیماری کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔
ڈینگی کی علامات اور روک تھام
اگرچہ دنیا میں چار ارب لوگوں کو ڈینگی سے خطرہ لاحق ہے، تاہم اس بیماری سے متاثرہ بیشتر لوگوں میں اس کی علامات دکھائی نہیں دیتیں اور عام طور پر وہ ایک سے دو ہفتے میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
تاہم ڈینگی کے شدید حملے کے نتیجے میں بلڈ پریشر میں کمی یا زیادتی، خون جاری ہونے یا کسی جسمانی عضو کے ناکارہ ہونے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایسی خطرناک علامات عام طور پر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب بخار اتر جاتا ہے اور طبی نگہداشت کرنے والے لوگ اور طبی ماہرین ان سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے انتباہی علامات میں پیٹ کے زیریں حصے میں شدید درد، متواتر قے، مسوڑوں سے خون آنا، بلغم جمع ہونا، غنودگی، بے چینی اور جگر کا بڑھ جانا شامل ہیں۔
اگرچہ ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے تاہم اس کے شدید حملے سے جانبر ہونے کے لیے بروقت تشخیص اور مناسب طبی نگہداشت ضروری ہے۔
تنازعات اور ڈینگی
انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ نازک حالات کا شکار ممالک یا مسلح تنازعات کا سامنا کرنے والے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے ملکوں، جیسا کہ افغانستان، پاکستان، سوڈان، صومالیہ اور یمن میں اس بیماری کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔
2023 میں ال نینو کی وجہ سے گزشتہ چند برس کے دوران دنیا بھر میں مچھروں کے پھیلاؤ کی صوررتحال میں تبدیلی آ گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ال نینو کی وجہ سے عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔