انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ میں پینے کے صاف پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں، یونیسف

خان یونس، غزہ میں تین بچے ملبے میں پانی کے برتن اٹھائے کھڑے ہیں۔
© UNICEF/Eyad El Baba غزہ کے علاقے خان یونس میں بچے پانی کی تلاش میں جاتے ہوئے بمباری میں تباہ ہوئے گھروں کو دیکھ رہے ہیں۔

غزہ میں پینے کے صاف پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں، یونیسف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث بیماریاں پھیلنے سے بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ضرورت کے مطابق صاف پانی تک رسائی زندگی و موت کا مسئلہ ہے اور غزہ میں بچوں کے لیے اس کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بچے اور ان کے خاندان غیرمحفوظ ذرائع سے پانی لینے پر مجبور ہیں جو انتہائی حد تک نمکین یا آلودہ ہے۔

Tweet URL

متواتر بم باری اور ایندھن کی فراہمی پر پابندیوں کے باعث صاف پانی کی ترسیل کا نظام بڑی حد تک کام چھوڑ چکا ہے۔

بقا کا مسئلہ

غزہ میں لوگوں کو زندگی کی بقا کے لیے ہی روزانہ کم از کم تین لٹر پانی درکار ہے۔ تاہم یونیسف کے مطابق حالیہ دنوں نقل مکانی کر کے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں آنے والے بچوں کو روزانہ صرف ڈیڑھ سے دو لٹر تک پانی میسر ہے اور اس کی دستیابی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ہزاروں بے گھر لوگوں کو پانی کے علاوہ خوراک، پناہ، ادویات اور تحفظ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ 

پانی کی فراہمی اور نکاسی آب میں سہولت دینے والی کم از کم 50 فیصد تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بچوں پر اس کے ممکنہ اثرات خاص طور پر باعث تشویش ہیں کیونکہ وہ اسہال اور غذائی قلت کا باآسانی شکار ہو سکتے ہیں۔ 

اسہال میں مبتلا پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد معمول کی ماہانہ اوسط سے 20 گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی خارش، جوئیں پڑنے، خسرے، چکن پاکس، جلد کی سوزش جیسی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ سانس کے شدید مسائل کا شکار ہیں۔

امدادی کوششیں

اس بحران کے آغاز سے ہی یونیسف اور اس کے شراکت دار کنوئیں، پانی صاف کرنے کے پلانٹ، پینے کے پانی کی ترسیل اور کوڑاکرکٹ تلف کرنے کے کام میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ 13 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بوتل بند پانی بھی پہنچایا گیا ہے۔ 

پانی کے 45 ہزار سے زیادہ گیلن اور کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار لوگوں کو صحت و صفائی کا سامان بھی مہیا کیا گیا ہے۔ اس میں خواتین کے لیے ایام حیض میں صحت و صفائی کا سامان اور ہزاروں صابن بھی شامل ہیں۔

یونیسف نے کہا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی تنصیبات چلانے کے لیے جنریٹروں اور پلاسٹک کے پائپوں کی ضرورت ہے۔ تاہم پابندیوں کے باعث ان چیزوں کو غزہ میں لانے کی اجازت نہیں۔ 

جنگ بندی کے لیے دباؤ

غزہ میں انسانی حالات کے بارے میں یہ تازہ ترین انتباہ ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب علاقے میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباو بڑھ رہا ہے۔ 

اس سے پہلے امن کا واحد وقفہ 24 نومبر تک یکم دسمبر تک رہا تھا۔ 

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ مایوس لوگ امدادی اہلکاروں سے خوراک چھین رہے ہیں۔ لوگ امدادی قافلے روکتے اور ان سے سامان اتارتے دکھائی دیتے ہیں۔ 

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ چھوٹی سی جگہ پر عارضی خیموں میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد پناہ گزین ہے۔ غزہ میں ہر جگہ لوگ مایوس، بھوکے اور خوف زدہ ہیں۔ 

'انرا' نے غزہ کے طبی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد اب تک 19,450 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد 70 فیصد ہے۔