سلامتی کونسل کی ایران میں پولیس سٹیشن پر ہلاکت خیز حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جنوبی ایران میں جمعے کو ایک پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے جس میں 11 پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر طرح سے اور ہر روپ میں دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے۔ انہوں نے اس جرم کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کا محاسبہ کرنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔
ایران کے جنوبی مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے علاقے راسک میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری سنی فرقے کی اسلامی تنظیم جیش العدل نے قبول کی ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار ہے۔ پولیس سٹیشن پر ہونے والا یہ حملہ صوبے میں اس نوعیت کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ اس سے پہلے جولائی میں پولیس حکام کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا اور مئی میں سراوان نامی علاقے میں ایران کے سرحدی محافظوں پر حملہ کیا گیا۔ دونوں واقعات میں متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
ایکواڈور کے سفیر اور سلامتی کونسل کے صدر ہوزے ڈی لا گاسکا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ارکان نے متاثرین کے خاندانوں اور ایران کی حکومت سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
ارکان نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے حکام سے فعال طور پر تعاون کریں اور اس ضمن میں دیگر متعلقہ حکام کو بھی مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی مطابقت سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو دہشت گردی سے لاحق خطرات پر قابو پانے کی ہرممکن کوشش کرنا ہو گی۔
جمعے کو سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ 15 دسمبر کو کیے جانے والے حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں، ایران کے لوگوں اور حکومت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔