ای سگریٹ کے استعمال میں نابالغوں کی تعداد زیادہ، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر جگہ بڑی تعداد میں نوعمر افراد ای سگریٹ کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو اس سگریٹ کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لیے قوانین کا فقدان ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے ممالک سے کہا ہے کہ وہ نوعمر لوگوں کو ای سگریٹ کی فروخت کی روک تھام کے اقدامات کو تیز کریں۔
بچوں کو نوعمری میں ای سگریٹ کی جانب راغب کیا جاتا ہے جو بعد ازاں نکوٹین کے عادی بھی ہو سکتے ہیں۔
ادارے کے مطابق 88 ممالک میں ای سگریٹ خریدنے کے لیے عمر کی کوئی کم از کم حد مقرر نہیں ہے۔ 74 ممالک ایسے ہیں جہاں ای سگریٹ کے حوالے سے ضوابط کو نافذ نہیں کیا گیا۔
ای سگریٹ: نوعمر صارفین میں اضافہ
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر سرطان کا سبب بننے والے کیمیائی مادے پیدا کرنے والی اشیا دل اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں اور ان سے دماغی صحت و نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ای سگریٹ پینے والے 13 تا 15 سال عمر کے بچوں کی تعداد بالغوں سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں گزشتہ تین برس کے دوران ای سگریٹ استعمال کرنے والے نوعمر افراد کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
گمراہ کن تشہیری مہم
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کی صنعت ای سگریٹ کے نقصانات کو کم ظاہر کرنے کے لیے غلط معلومات کی تشہیر کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل اور جھوٹے ثبوتوں سےکام لیتی ہے۔ اس کے ساتھ بچوں اور سگریٹ نہ پینے والوں کو ان اشیا کی طرف راغب کرنے کے لیے بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی جاتی ہے۔