انسانی کہانیاں عالمی تناظر

’انسانیت کے بحران‘ کے دوران عالمی پناہ گزین فورم کا آغاز

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی گلوبل ریفیوجی فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
© UNHCR/Pierre Albouy
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی گلوبل ریفیوجی فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

’انسانیت کے بحران‘ کے دوران عالمی پناہ گزین فورم کا آغاز

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 40 لاکھ لوگوں کا نقل مکانی پر مجبور ہونا انسانیت کا بحران ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مظالم، انسانی حقوق کی پامالیوں، تشدد، مسلح جنگوں اور امن عامہ کے مسائل کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ یہ کروڑوں لوگ دراصل شکستہ خواب، تباہ حال زندگیاں اور ٹوٹی ہوئی امیدیں ہیں۔

Tweet URL

فلیپو گرینڈی نے یہ بات جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق عالمی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ فورم پناہ گزینوں کے امور پر دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔ یو این ایچ سی آر اور سوئزرلینڈ اس کے مشترکہ میزبان ہیں اور اس کا انعقاد کولمبیا، فرانس، جاپان، اردن اور یوگنڈا نے کیا ہے۔ 

اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک، سول سوسائٹی کے ادارے، نجی کمپنیاں، مالیاتی ادارے اور پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی 300 سے زیادہ شخصیات شریک ہیں۔ 

سماجی جذبہ 

فلیپو گرینڈی نے نقل مکانی کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ طویل بحرانوں کے باعث بے گھر ہونے والوں کی مدد کرنا انسانی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے میانمار، شام، افغانستان اور جمہوریہ کانگو کے بہت سے ایسے پناہ گزینوں کی مثال دی جن کے پاس اپنے ممالک کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انہوں نے افریقہ کے سیحل خطے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ، جنوبی سے شمالی امریکہ کی جانب بڑھتی ہوئی نقل مکانی اور بحیرہ روم اور خلیج بنگال کے راستے مہاجرت کا تذکرہ بھی کیا۔ ان خطوں کے بہت سے لوگ اپنے ممالک میں تنازعات کا سیاسی حل موجود نہ ہونے کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

ہائی کمشنر نے 2019 میں پناہ گزینوں کے بارے میں پہلے فورم کے بعد اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابیاں رکن ممالک، این جی اوز، مقامی اور پناہ گزینوں کی تنظیموں، کھیلوں کے اداروں، مذہبی رہنماؤں، ماہرین علم، مالیاتی اداروں، نجی کمپنیوں اور عام شہریوں کے مشترکہ اقدامات کی بدولت حاصل ہوئیں۔ پناہ گزینوں کے بارے میں عالمی معاہدے میں بھی یہی کُل سماجی مثبت جذبہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ 

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ 'یو این ایچ سی آر' کو رواں سال اپنے امدادی ہدف کو پورا کرنے کے لیے مزید 400 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں آئندہ برس متوقع صورت حال کے بارے میں بھی کڑی تشویش لاحق ہے۔

غزہ، ایک بڑی انسانی تباہی 

اس موقع پر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے غزہ کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں لوگوں کے پاس وقت اور گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے مکینوں کو بمباری، محرومی اور پناہ کی تیزی سے سکڑتی جگہوں پر بیماریوں کا سامنا ہے۔ یہ لوگ 1948 کے بعد اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور کا سامنا کر رہے ہیں۔ 

فلپ لازارینی نے کہا کہ تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے ایسے حقیقی سیاسی عمل کا کوئی متبادل نہیں جس کے نتیجے میں دونوں فریق الگ ریاستوں کی صورت میں امن و استحکام سے رہیں۔ 

ہائی کمشنر نے غزہ کے موجودہ حالات کو بڑی انسانی تباہی قرار دیا جو سلامتی کونسل کی ناکامی کے عکاس ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں شہریوں کی اموات، انہیں درپیش مصائب اور بے گھری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ 

انہوں ںے علاقے میں انسانی بنیادوں پر فوری اور پائیدار جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور تنازع کے حقیقی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اپیل کو دہرایا۔

پناہ گزینوں کے لیے کام

ہائی کمشنر نے فورم سے کہا کہ یہ متحد ہونے کا وقت ہے جس سب کو یہ یقینی بنانا ہے کہ اپنی زندگی، آزادی اورسلامتی کے لیے نقل مکانی کرنے والوں کو تحفظ حاصل ہو۔

تین روزہ اجلاس کے دوران بہت سے امور پر بات چیت اور کام ہو گا۔ ان میں پناہ گزینوں سے متعلق امور میں صنفی مساوات یقینی بنانا، صنفی بنیاد پر تشدد کا خاتمہ، تعلیم، صحت، پناہ گزین بچوں کے حقوق، روزگار، رہائش اور دیگر شامل ہیں۔ 

فورم میں پہلے روز کے اختتام 2023 کا نینسن پناہ گزین ایوارڈ جیتنے والوں کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔