انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: انسانیت کی تباہی کا علاقہ، ہستپالوں میں گنجائش ختم، ڈبلیو ایچ او

غزہ کے اکثر ہسپتال بمباری میں ناکارہ ہو چکے ہیں اور جو اب بھی فعال ہیں ان میں مزید زخمیوں اور مریضوں کی دیکھ بھال کی گنجائش نہیں رہی۔
© WHO
غزہ کے اکثر ہسپتال بمباری میں ناکارہ ہو چکے ہیں اور جو اب بھی فعال ہیں ان میں مزید زخمیوں اور مریضوں کی دیکھ بھال کی گنجائش نہیں رہی۔

غزہ: انسانیت کی تباہی کا علاقہ، ہستپالوں میں گنجائش ختم، ڈبلیو ایچ او

امن اور سلامتی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ بھر میں شدید بیمار اور زخمی لوگوں کی بڑی تعداد کو اسرائیل کی متواتر بم باری کا سامنا ہے۔ شمالی علاقے میں جزوی طور پر فعال آخری ہسپتال انسانی تباہی کی تصویر بن گیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر رچرڈ پیپرکورن نے غزہ سے بتایا ہے کہ الاہلی ہسپتال کی راہداریاں زخمیوں سے بھری ہیں۔ ڈاکٹر ہسپتال کے فرش پر لوگوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ایندھن، آکسیجن، خوراک اور پانی نایاب ہو گیا ہے۔

Tweet URL

ہسپتال میں 200 سے زیادہ مریض موجود ہیں لیکن وہاں صرف 40 مریضوں کے علاج کی گنجائش ہی باقی ہے۔ وسائل کی قلت کے باعث ڈاکٹر زخمی لوگوں کی جان بچانے کے لیے ان کے اعضا قطع کرنے پر مجبور ہیں۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے ترجمان کرسٹیئن لنڈمیئر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ شمالی علاقے میں کمال ادوان ہسپتال کو پوری طرح مریضوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ غزہ کے طبی حکام کے مطابق وہاں چھ نومولود بچوں اور انتہائی نگہداشت میں رکھے گئے مریضوں سمیت 68 افراد کے علاوہ ہزاروں پناہ گزین بھی موجود تھے۔ اس ہسپتال کو کئی روز تک اسرائیلی فوج اور ٹینکوں نے گھیرے رکھا تھا۔ 

الاہلی ہسپتال کے ارد گرد کئی روز سے شدید لڑائی بھی جاری تھی۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر 'اوچا' کے مطابق ہسپتال کے زچہ وارڈ میں کو بم باری سے نقصان پہنچا تھا جس میں دو مائیں ہلاک ہو گئیں۔

66 روزہ جنگ سے پہلے غزہ میں نظام صحت کا معیار ہمسایہ ممالک کے برابر تھا لیکن آج وہاں 36 ہسپتالوں میں سے دو تہائی اور 70 فیصد سے زیادہ بنیادی طبی مراکز غیرفعال ہو گئے ہیں۔

طبی عملے کی گرفتاریاں 

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ علاقے میں طبی کارروائیاں انجام دینے میں کئی طرح کی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ شمالی علاقے کو جانے والے راستے پر وادی غزہ میں اسرائیلی فوج کے مرکز پر جانچ پڑتال میں طویل وقت صرف ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں اس مرکز پر طبی عملے کے ارکان کو بندوق کی نوک پر گرفتار کر کے مارا پیٹا اور ہراساں کیا گیا۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہےکہ طبی مشن میں شامل کسی فرد کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور ایسی ضروری سرگرمیاں تاخیر کی متحمل بھی نہیں ہو سکتیں۔

ڈاکٹر پیپرکورن کے مطابق شمالی غزہ تاراج علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جب 'ڈبلیو ایچ او' کا قافلہ اس علاقے سے گزرا تو لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ کئی ہفتوں سے وہاں کوئی مدد نہیں پہنچی۔

نومولود بچوں کو غزہ کے الشفاء ہسپتال سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Eyad El Baba
نومولود بچوں کو غزہ کے الشفاء ہسپتال سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔

طبی نظام کے تحفظ کا مطالبہ

'عالمی ادارہ صحت' نے بتایا ہےکہ شمالی علاقے میں آنے والے اس کے طبی قافلے میں شامل امدادی سامان کے ٹرک اور ایک ایمبولینس کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ الاہلی ہسپتال سے مریضوں کو لے کر واپسی کے سفر میں اس قافلے کو فوجی چوکی پر روکا گیا جہاں عملے اور مریضوں کو جانچ پڑتال کے لیے گاڑیوں سے اتار لیا گیا۔

شدید زخمی مریضوں کی ایمبولینس گاڑیوں میں تلاشی لی گئی اور عملے کے ایک رکن کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا جسے قبل ازیں بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ منتقلی کے عمل میں ایک مریض زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ 

حراست میں لیے جانے والے طبی کارکن نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد اسے مارا پیٹا گیا اور ہاتھ باندھنے کے بعد برہنہ کر کے جنوبی علاقے کی طرف جانے کا حکم دیا گیا۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ان حالات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو طبی خدمات تک رسائی کا حق ہے۔ طبی نظام کا بہرصورت تحفظ ہونا چاہیے۔ 

بیماریوں میں اضافہ

غزہ کی پٹی میں 19 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جن کی بڑی تعداد گنجائش سے زیادہ بھری پناہ گاہوں میں مقیم ہے۔ ان جگہوں پر نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پانچ سال سے کم عمر 60 ہزار بچے اسہال میں مبتلا ہیں جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار افراد کو سانس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ خارش، جلد کی سوزش، چیچک اور سرسام بھی تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو ریڑھ کی ہڈی کی چوٹیں آئی ہیں۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے حکام نے کہا ہے کہ بنیادی مراکز صحت کے نظام کو دوبارہ فعال کرنا، زچگی، ماں بچے کی صحت، غیرمتعدی بیماریوں اور رسولیوں کے علاج اور دماغی طبی امداد کی بحالی ضروری ہے۔

غزہ میں تباہی کے بعد بے گھر ہو جانے والےخاندان خان یونس کے النصر ہسپتال کے باہر خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
© UNFPA/Bisan Ouda
غزہ میں تباہی کے بعد بے گھر ہو جانے والےخاندان خان یونس کے النصر ہسپتال کے باہر خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

رفح میں 50 بستر کا ہسپتال

فلسطینی ہلال احمر نے قطری ہلال احمر سوسائٹی کے تعاون سے جنوبی غزہ میں فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے بتایا ہےکہ یہ ہسپتال 50 بستر پر مشتمل ہو گا جس میں سرجری و انتہائی نگہداشت کا یونٹ، مریضوں کی وصولی کے شعبے اور ریڈیالوجی کی سہولت بھی ہو گی۔

غزہ کے طبی حکام نے بتایا ہے کہ شدید زخمی ہونے والے صرف 400 افراد کو علاج کے لیے رفح سرحد کے راستے مصر بھیجا گیا ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں تقریباً 50 ہزار افراد زخمی ہیں اور ان میں قریباً 8 ہزار کو فوری علاج معالجہ درکار ہے۔