انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

کاپ28: معدنی ایندھن کا استعمال مرحلہ وار کم کیا جائے، گوتیرش

UNFCCC/Kiara Worth
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

کاپ28: معدنی ایندھن کا استعمال مرحلہ وار کم کیا جائے، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 'کاپ 28' میں معدنی ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے معاہدے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نظریں چرانے کا وقت نہیں رہا۔

دبئی میں اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس کل ختم ہو جائے گی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری کی حد میں رکھنے کے ہدف کی جانب فیصلہ کن اقدام اور قابل بھروسہ منصوبہ بندی نظر آنی چاہیے۔ اب عزائم اور لچک میں اضافہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

Tweet URL

وقت کم، مقابلہ سخت

'کاپ' میں معدنی ایندھن کے مستقبل، قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی رفتار بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف استحکام لانے اور اس مسئلے سے بری طرح متاثرہ ممالک کے لیے مالی مدد یقینی بنانے پر بات چیت جاری ہے۔ 

اس موقع پر انتونیو گوتیرش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ 1.5 ڈگری کے ہدف کو قابل رسائی رکھنے کے لیے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ 'کاپ 28' اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس میں بہت سے اہم معاملات پر اتفاق رائے کے لیے اب بھی کام باقی ہے۔

انہوں نے مندوبین پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے پر اپنی خود ساختہ حدود، اپنے کڑے موقف اور پیش رفت میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اقدامات پر نظرثانی کریں۔ اس مقصد کے لیے نیک نیتی سے بات چیت کی ضرورت ہے اور کوئی سمجھوتہ سائنس یا اعلیٰ ترین عزم کی ضرورت کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔شکستہ اور منقسم دنیا میں 'کاپ 28' یہ ثابت کر سکتی ہے کہ کثیر فریقی طریقہ کار ہی عالمگیر مسائل پر قابو پانے کی بہترین امید ہے۔ 

بلند عزائم کی ضرورت

'کاپ 28' کے 12ویں روز موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے کہا کہ کانفرنس میں لیے گئے فیصلوں اور معاہدوں پر مشتمل حتمی دستاویز ایک نیا باب شروع کرنے اور لوگوں اور زمین کو فائدہ پہنچانے کا موقع ہو گا۔ 

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والی بات چیت میں اب دو معاملات بہت اہم ہیں۔

ان میں ایک یہ ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے دنیا کا عزم کتنا بلند ہے اور دوسرا یہ کہ آیا ممالک موزوں ذرائع کے ساتھ یہ تبدیلی لانے پر رضامند ہیں؟ 

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات پر بلند عزائم ممکن ہیں، تاہم اگر کسی ایک معاملے پر عزم میں کمی واقع ہوتی ہے تو دوسرا بھی اس سے متاثر ہو گا۔ اس معاملے پر ٹھوس معاہدے کے لیے غیرضروری تدبیراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا اور اب مرحلہ وار اقدامات کی گنجائش نہیں رہی۔اس مسئلے پر کسی ایک کی شکست اجتماعی شکست ہو گی اور اس وقت 8 ارب لوگوں کی سلامتی داؤ پر لگی ہے۔

دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے موقع پر موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کرنے والے کارکن توانائی کے معدنی ایندھن کی بجائے قابل تجدید ذرائع اپنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
COP28 /Neville Hopwood

موسمیاتی اقدامات: عالمگیر جائزہ

'کاپ 28' پہلا موقع ہے جب موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملی اقدامات کا جائزہ لیا جانا ہے۔ 

اس وقت کانفرنس میں یہ جائزہ جاری ہے اور اس کی روشنی میں آئندہ کی منصوبہ بندی ہو گی۔ اسے موسمیاتی اقدامات میں قومی سطح پر ممالک کا حصہ یا کردار (این ڈی سی) بھی کہا جاتا ہے۔ تمام ممالک کو اپنے یہ منصوبے 2025 تک پیش کرنا ہیں۔ 

سیکرٹری جنرل نے ممالک سے کہا ہےکہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور موسمیاتی انصاف ممکن بنانے کے معاملے پر زیادہ سے زیادہ پُرعزم وعدے کریں۔ 

قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی

انتونیو گوتیرش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان عزائم کو بلند کرنے اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے درکار اہم اقدامات کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں تین گنا اضافہ، توانائی کی استعداد کو دو گنا بڑھانا اور معدنی ایندھن کا خاتمہ اس ضمن میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ 

اس کے ساتھ مسئلے کے متاثرین کے لیے تربیت اور انہیں سماجی تحفظ کی فراہمی بھی اہم ہے اور معدنی ایندھن کی پیداوار پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔

اس حوالے سے اقدامات کا وقت اور اہداف ہر ملک میں ترقی کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں 2050 تک نیٹ زیرو ہدف کے حصول اور 1.5 ڈگری کے ہدف کو قابل رسائی رکھنے کی مطابقت سے انجام دیا جانا چاہیے۔

دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور یو این ایف سی سی کے سربراہ سائمن سٹیئل صلاح مشورہ کرتے ہوئے۔
UNFCCC/Kiara Worth

موسمیاتی انصاف

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 'کاپ 28' کا آغاز دو حوصلہ افزا اقدامات سے ہوا تھا۔ ان میں ایک نقصان و تباہی کے فنڈ کو فعال کرنے پر اتفاق رائے اور دوسرا گرین کلائمیٹ فنڈ میں مالی وسائل کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ تاہم یہ آغاز ہے اور ابھی اس سمت میں مزید بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

'کاپ 28' میں اس حوالےسے واضح پیغام جانا چاہیے کہ حکومتیں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر قادر ہیں اور یہ صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ترجیح ہونی چاہیے۔ 

قرضوں کے بوجھ تلے دبے ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کو اپنے تمام وعدے پورے کرنا ہوں گے۔

نیا مطابقتی فریم ورک

انتونیو گوتیرش نے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے معاملے پر نئے فریم ورک پر اتفاق رائے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عملدرآمد کے بغیر اس کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ابتداً 2050 تک موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر 40 ارب ڈالر کے مالی وسائل میں مزید اضافہ پہلا قدم ہونا چاہیے۔ اس کے بعد موسمیاتی مقاصد کے لیے دیے جانے والے مالی وسائل کا کم از کم نصف مطابقتی اقدامات پر خرچ کرنا ہو گا۔