انسانی کہانیاں عالمی تناظر
دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے دوران کسانوں اور پیداوار کے روایتی ذرائع پر سیشن کا ایک منظر۔

کاپ28: ایف اے او کا غذائی پیداوار کا نیٹ زیرو پروگرام

COP28/Christophe Viseux
دبئی میں کاپ28 کانفرنس کے دوران کسانوں اور پیداوار کے روایتی ذرائع پر سیشن کا ایک منظر۔

کاپ28: ایف اے او کا غذائی پیداوار کا نیٹ زیرو پروگرام

موسم اور ماحول

دبئی میں 'کاپ 28' کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے زرعی غذائی نظام کو تبدیل کرنے کا غیرمعمولی منصوبہ پیش کیا ہے جس پر عملدرآمد کی صورت میں 2050 تک دنیا میں اس نظام سے کاربن کا اخراج بند ہو جائے گا۔

'ایف اے او' نے اس حوالے سے ترجیحی اہمیت کے حامل 10 شعبوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں مویشی بانی، مٹی اور پانی، فصلیں، خوراک اور ماہی گیری بھی شامل ہیں۔ ان شعبوں میں طے شدہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کے ذریعے دنیا کو بھوک کے مکمل خاتمے اور پائیدار ترقی کا دوسرا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

Tweet URL

منصوبے کا مقصد

اس منصوبے کا مقصد زرعی غذائی نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ نظام خوراک اگانے، اس کی بڑھوتری، نقل و حمل اور آخری مرحلے میں اس کی باقیات کے خاتمے تک کا احاطہ کرتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر سال 1.5 گیگا ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکا جا سکے گا۔ 

منصوبے کا ہدف

اس منصوبے کے ذریعے پیرس معاہدے کے مطابق عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھتے ہوئے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنا ہے۔ 

دبئی میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کے موقع پر یو این نیوز نے 'ایف اے او' میں زرعی غذائی معاشیات کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ لابورڈے سے بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لائحہ عمل کو غذائی حوالے سے انتہائی برے حالات سے بچنے اور اس انداز میں کام کے لیے وضع کیا گیا ہے جس سے آج اور مستقبل میں سبھی کو فائدہ پہنچے۔ 

انہوں نےکہا کہ اس حوالے سے کام کے لیے پالیسی سازوں کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں سول سوسائٹی کو متحرک ہونے اور نجی شعبے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج بہتر فیصلے کرنے کا مطلب آنے والےکل کو مزید پائیدار اور منافع بخش بنانا ہے۔ اس کا حتمی مقصد غذائی نظام میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس میں ہر ایک کا کردار شامل ہو۔

ایف اے او کے منصوبے کے تحت عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھتے ہوئے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنا ہے۔
© FAO/Alessandro Penso

اچھا آغاز

'ایف اے او' کے چیف اکانومسٹ میکسیمو توریرو نے یو این نیوز کو بتایا کہ اس لائحہ عمل کا ہدف تیزرفتار موسمیاتی اقدامات کے زریعے زرعی غذائی نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح آج اور کل سبھی کے لیے غذائی تحفظ اور غذائیت کے حصول میں مدد ملے گی۔

دنیا بھر میں 73 کروڑ 80 لاکھ لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ توریرو نے کہا کہ موسمیاتی معاملے پر بات چیت میں خوراک کے موضوع پر بھی خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی سرمایہ کاری میں اس شعبے کو بھی معقول حصہ ملنا چاہیے جو اس وقت محض چار فیصد ہے۔ 

اس لائحہ سے متعلق جاری کردہ ایک رپورٹ میں 'ایف اے او' نے کہا ہے کہ زرعی غذائی نظام کے لیے موسمیاتی مالیات کا حجم بہت کم ہے۔ عالمگیر موسمیاتی مالیات کے مقابلے میں اس میں متواتر کمی آ رہی ہے جبکہ اس وقت ایسی سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے۔ 

توریرو نے کہا کہ 'کاپ 28' میں اس حوالے سے ہونے والا کام ایک اچھا آغاز ہے اور یہ لائحہ عمل پائیدار زراعت، خوراک کے مستحکم نظام اور موسمیاتی اقدامات پر امارات اعلامیے کو عملی جامہ پہنانے میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ یہ اعلامیہ کانفرنس کے اعلیٰ سطحی افتتاحی اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔

کاپ28 کانفرنس کے شرکاء گرین زون میں روایتی رقص کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
COP28 /Walaa Alshaer

تیز رفتار عملدرآمد

'ایف اے او' کے اس اقدام کا اعلان 'کاپ 28' میں خوراک، زراعت اور پانی کے موضوع پر مخصوص دن پر ہوا۔ اس موقع پر دنیا بھر کے وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے امارات اعلامیے پر عملدرآمد کے طریقوں پر تبادلہء خیال کیا۔ اب تک 150 سے زیادہ ممالک اس پر دستخط کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ اعلامیہ دنیا کو درکار تبدیلی کی جانب سفر کے لیے ایک طاقتور سیاسی عزم ہے۔ ایسے وقت میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب 2030 کے ایجنڈے کے حصول کا حتمی وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی اور موسمیاتی اقدامات سے متعلق اہداف کے حصول میں 7 سال کا عرصہ باقی ہے۔ ایسے میں دنیا کو نظام ہائے خوراک کے ذریعے اس ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے اپنی اجتماعی کوششوں کو فوری طور پر مضبوط بنانا ہو گا۔ پیرس معاہدے کے طویل مدتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی طریقے میں زراعت اور خوراک کو لازمی طور سے شامل ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک تہائی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج انہی شعبوں سے ہوتا ہے۔

سمندروں کے بارے میں اقوام متحدہ کی عالمگیر میثاق پر سیکرٹری جنرل کے مشیراعلیٰ ونسنٹ ڈومیزل کے مطابق مشرقی افریقہ میں سمندری کائی کی کاشت سے ثابت ہو چکا ہےکہ اس سے روزگار کے مواقع کھلتے ہیں۔
UN News / Ezzat El-Ferri

'سمندری کائی' کا انقلاب

سمندری کائی دور حاضر میں انسانیت کو درپیش بعض اہم ترین عالمگیر مسائل کا ایک اختراعی حل ہو سکتا ہے جس سے تاحال فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ 

سمندروں کے بارے میں اقوام متحدہ کے عالمگیر میثاق پر سیکرٹری جنرل کے مشیراعلیٰ ونسنٹ ڈومیزل نے 'کاپ 28' میں یو این نیوز کی ٹیم کو بتایا کہ وہ 'سمندری کائی کے انقلاب' کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس سے ناصرف ماحولیاتی بحران پر قابو پانے بلکہ غذائی عدم تحفظ اور سماجی بحران سے نمٹنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ 

انہوں نےکہا کہ سمندری کائی روزانہ 40 سینٹی میٹر کی تیز رفتار سے بڑھتی ہے اور 60 میٹر بلندی تک جا پہنچتی ہے۔ اس طرح یہ ایک حقیقی جنگل ہے جو ایمازون کے جنگل سے زیادہ کاربن جذب کرتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ متروک غذائی نظام موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، پانی کی قلت، مٹی کے انحطاط اور سماجی ناانصافی کا بڑا سبب ہیں۔ اس کے علاوہ جدید غلامی کا شکار لوگوں کی بہت بڑی تعداد انہی نظام ہائے خوراک میں کام کرتی ہے۔ 

مشرقی افریقہ میں سمندری کائی کی کاشت سے ثابت ہو چکا ہےکہ اس سے روزگار کے مواقع کھلتے ہیں۔ اس سے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی مدد ملی ہے جہاں اس کاشت سے 80 فیصد آمدنی خواتین کو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر سمندری پودوں کی کاشت پر توجہ دی جائے تو ہم پہلی نسل ہوں گے جو موسمیاتی تبدیلی کو محدود رکھتے ہوئے، حیاتیاتی تنوع کو بحال کر کے اور غربت میں کمی لاتے ہوئے تمام انسانوں کو خوراک مہیا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ایسا ممکن ہے تاہم اس کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا'۔