انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی اہمیت 75 سال بعد بھی برقرار، گوتیرش
انسانی حقوق کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش گوناں گوں مسائل کے ہوتے ہوئے تمام لوگوں کے سماجی، ثقافتی، معاشی، شہری اور سیاسی حقوق کا فروغ اور احترام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اس دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ تمام انسان آزاد اور مساوی وقار اور حقوق کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کا آغاز اسی بات سے ہوتا ہے اور اس کی آج بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی 75 برس پہلے تھی۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ یہ اعلامیہ ایک لائحہ عمل ہے جو جنگوں اور تقسیم کے خاتمے اور سبھی کی زندگی کو پُرامن اور باوقار بنانے میں مدد دیتا ہے۔
حقوق کا بحران
انہوں نے عالمگیر مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دنیا اپنی راہ کھو رہی ہے، جنگیں جاری ہیں، غربت بڑھ رہی ہے اور عدم مساوات گہری ہوتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی بحران انسانی حقوق کا بحران ہے جو بدحال ترین لوگوں کو سب سے بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
آمریتیں فروغ پا رہی ہیں، شہری آزادیاں سکڑ رہی ہیں اور صحافت کو ہر طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔ صنفی مساوات کے حصول کا خواب تشنہ تعبیر ہے اور خواتین کو تولیدی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ان حالات میں یہ اعلامیہ مشترکہ اقدار اور ایسے طریقوں کی جانب راہنمائی کرتا ہے جو تناؤ دور کرنے اور سلامتی و استحکام ممکن بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ہماری دنیا کو اسی کی خواہش اور ضرورت ہے۔
لافانی اقدار
سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عالمی نظام کو بہتر اور 21ویں صدی میں مزید موثر بنانے کے کام میں انسانی حقوق کو منفرد اور مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔
انہوں نے رکن ممالک سے کہا کہ وہ اس اعلامیے کی 75ویں سالگرہ اور آئندہ برس مستقبل کی کانفرنس سے ان لافانی اقدار سے اپنی وابستگی مضبوط بنانے کا کام لیں جو اس اس کا خاصہ ہیں۔
انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ روزانہ، ہر جگہ اور ہر فرد کے حقوق کو فروغ اور احترام دیں کیونکہ حقوق ہی سب کو تحفظ دیتے ہیں۔
یہ عالمی دن انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی منظوری کے دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ اس اعلامیے کی منظوری 10 دسمبر 1948 میں دی گئی تھی۔