انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اساتذہ کی کمی حق تعلیم کے حصول میں بڑی رکاوٹ، فریدہ شہید

حقِ تعلیم پر انسانی حقوق کونسل کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید کا کہنا ہے کہ سب کے فائدے کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی کے استعمال میں حرج نہیں لیکن اسے بالاحتیاط ہونا چاہیے۔
Johanne Bouchard/OHCHR
حقِ تعلیم پر انسانی حقوق کونسل کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید کا کہنا ہے کہ سب کے فائدے کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی کے استعمال میں حرج نہیں لیکن اسے بالاحتیاط ہونا چاہیے۔

اساتذہ کی کمی حق تعلیم کے حصول میں بڑی رکاوٹ، فریدہ شہید

انسانی حقوق

حقِ تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید نے کہا ہے کہ 2030 تک تمام بچوں کے لیے ابتدائی اور ثانوی درجے کی تعلیم یقینی بنانے کا ہدف اساتذہ کے حالات کار میں بہتری اور تعلیمی مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تعلیمی شعبے میں تمام مسائل کا حل نہیں۔ ممالک جب تک اپنے جی ڈی پی کا 6 فیصد یا بجٹ کا 20 فیصد تعلیم پر خرچ نہیں کریں گے اس وقت تک تمام لوگوں کو معیاری اور مساوی تعلیم دینے کا خواب تعبیر نہیں پا سکتا۔ 

انہوں نے یہ بات نیویارک میں یو این نیوز اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

فریدہ شہید نے اساتذہ کی کمی کو حق تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے تعلیمی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ابتدائی اور ثانوی درجے کی تعلیم دینے والے مزید 6 کروڑ 90 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے۔

شعبہ تعلیم میں اجرتیں کم

انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 60 فیصد ممالک میں پرائمری سکول کے اساتذہ کو دیگر پیشوں کے مقابلے میں کم اجرت ملتی ہے۔ ان کے لیے بہتر حالات کار اور ترقی کے مواقع کا فقدان ہے۔ اسی لیے نوجوان تدریس کا شعبہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ اسی لیے انہوں نے اقوام متحدہ کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں اساتذہ کے حالات کار اور ان میں بہتری لانے کے لیے حکومتوں کی ذمہ داری کو واضح کیا ہے۔

فریدہ شہید نے کہا کہ اساتذہ سے بہت سی توقعات رکھی جاتی ہیں، جیسا کہ کووڈ جیسے حالات میں ان کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی اچھی طرح واقفیت حاصل کریں۔ لیکن دوسری جانب ان کی مدد اور تربیت کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔

صنفی و طبقاتی تفریق

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تحقیق سے ثابت ہے کہ جس شعبے میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہاں اجرت کم ہو جاتی ہے۔ ایسا صرف پاکستان اور اردگرد کے ممالک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر  میں ہوتا ہے۔ پرائمری اور ثانوی درجے کے سکولوں میں 70 فیصد اساتذہ خواتین ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم کے درجوں میں ان کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے۔

انہوں نے اسے صنفی تفریق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی عدم مساوات کے بارے میں آگاہی ابتدائی درجے کے نصاب کا حصہ ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے تعلیمی شعبے میں کئی طرح کی دیگر نابرابریوں کی نشاندہی بھی کی۔

پرائمری اور ثانوی درجے کے سکولوں میں 70 فیصد اساتذہ خواتین ہیں.
© UNHCR/Mohammed Hamoud

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غریب طبقے کے لیے تعلیم کا حصول آسان نہیں ہے۔ اگر اساتذہ کی مالی حالت اچھی نہیں ہو گی تو وہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور بجلی وغیرہ تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جسمانی معذور افراد، اقلیتی طبقات، دیہی آبادی اور شہری مراکز سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی تعلیم و تدریس میں عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نابرابری کو ختم کرنے کے لیے حکومتوں کو پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی۔

فریدہ شہید نے کووڈ وبا، دنیا میں جاری مسلح تنازعات اور قدرتی آفات کو 26 کروڑ بچوں کے تعلیم سے محروم رہنے کے بڑے اسباب قرار دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے پاکستان کی مثال دی جہاں گزشتہ برس آنے والے سیلاب میں ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔

افغانستان میں مایوس کن صورتحال

انہوں نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو مایوس کن اقدام قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان پر اس اقدام کی واپسی کے لیے متواتر دباؤ ڈالے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی افغانستان کے موجودہ حکمرانوں سے کہا ہے کہ بارہ سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ سے نوعمری کی شادی اور بچہ مزدوری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

فریدہ شہید کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا حقیقی فائدہ تبھی ہو گا جب اس تک تمام لوگوں کی مساوی رسائی ہو۔
© ITU/Rowan Farrell

ٹیکنالوجی کے ساتھ احتیاط

تعلیمی شعبے پر ڈیجیٹل ترقی کے اثرات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت سے لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ذرائع اور آلات حتیٰ کہ بجلی تک بھی رسائی نہیں ہے۔ اسی لیے تعلیمی عدم مساوات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ 

تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی بظاہر بلامعاوضہ تعلیمی سہولت دینے والی کمپنیاں بچوں، ان کے والدین، عزیزو اقارب اور دوستوں کے بارے میں بلا اجازت معلومات جمع کرتی ہیں۔ اسے ڈیٹا مائننگ بھی کہا جاتا ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سب کے فائدے کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی کے استعمال میں حرج نہیں لیکن اسے بالاحتیاط ہونا چاہیے۔ تعلیمی شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا حقیقی فائدہ تبھی ہو گا جب اس تک تمام لوگوں کی مساوی رسائی ہو۔

خصوصی اطلاع کار

خصوصی اطلاع کار، غیرجانبدار ماہرین اور ورکنگ گروپ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ ہائے کار کا حصہ ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ بھی نہیں ہوتے اور کسی حکومت یا ادارے کے ماتحت کام کرنے کے بجائے انفرادی حیثیت میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔