کاپ28: موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے مزاکرات میں نوجوانوں کو بھی سنا جائے
دبئی میں جاری 'کاپ 28' میں نوجوان ماحولیاتی کارکنوں نے حکومتوں کے پالیسی سازوں سےمطالبہ کیا ہے کہ دنیا کے 2 ارب بچوں کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے جن کی آوازیں اور خیالات دنیا کو تباہی سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نوجوانوں کے مستقبل کے درپے ہے اور ان حالات میں وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
دبئی میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس میں عالمی حدت کو کم کرنے اور معدنی ایندھن کے مستقبل کے بارے میں کڑی بات چیت جاری ہے۔ ایسے میں کانفرنس کے 9ویں دن نوجوانوں اور بچوں کی آواز توجہ کا مرکز رہی۔
کانفرنس سے پہلے اقوام متحدہ نے متعدد ایسی رپورٹ جاری کی تھیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض موسمیاتی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے 'ڈبلیو ایم او' کے تازہ ترین جائزے سے ثابت ہوتا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں برف کے پگھلاؤ اور سطح سمندر میں اضافے کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے۔
دنیا کی تقریباً دو ارب آبادی کی عمر 10 سے 24 سال کے درمیان ہے۔ یہ تاریخ میں اب تک نوجوانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ نوجوان موسمیاتی تبدیلی کے خدشات کے بارے میں تیزی سے آگاہ ہو رہے ہیں اور ان پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ دبئی میں ایکسپو سٹی کے الواہا تھیٹر میں بھی آج یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔
تبدیلی کی تحریک
'کاپ 28' میں نوجوانوں کے ایک پروگرام میں بچوں اور نوجوان کارکنوں کے عالمی نیٹ ورک 'یونگو' کی امیلیا ترک نے کانفرنس کے مندوبین کے لیے دنیا بھر کے نوجوانوں کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ موسمیاتی پالیسی سے متعلق اس دستاویز کی تیاری میں 150 سے زیادہ ممالک کے 750,000 سے زیادہ نوجوانوں نے حصہ ڈالا ہے۔
امیلیا نے اسے موسمیاتی تحریک کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 'اگرچہ ہمارے پاس سبھی کو کاپ میں لانا ممکن نہیں ہے، تاہم یہ عالمگیر اعلامیہ اس امر کی شاندار مثال ہے کہ ہمیں مسئلے کا ادارک ہے اور اسی لیے ہم یہاں موجود ہیں۔'
اس تنظیم کے مشکور عیسٰی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مطالبات کے باوجود انہیں اس بارے میں ہونے والی بیشتر بات چیت، وعدوں اور پالیسی سازی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ فریقین کو بچوں اور نوجوانوں کی آرا کو ہر سطح پر فیصلہ سازی میں شامل کر کے ان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا۔
اسی تنطیم کی رکن بھومی شرما نے کہا کہ موسمیاتی اختیار کے لیے عملی اقدامات (اے سی ای) کو مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔
'اے سی ای' کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کو تعلیم اور عوامی آگاہی، تربیت، عوامی شرکت، معلومات تک عام رسائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے موسمیاتی اقدامات میں شمولیت کا اختیار دلانا ہے۔ اس کا تذکرہ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 میں بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نےکہا کہ اس حوالے سے مالی وسائل کی شدید قلت ہے اور کوششوں کے باوجود ترقی پذیر ممالک اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
'موسمیاتی بحران تعلیمی بحران ہے'
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق 6 سال میں قدرتی آفات سے 44 ممالک میں 43.1 ملین بچے اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس طرح روزانہ بے گھر ہونے والے بچوں کی تعداد 20 ہزار بنتی ہے۔
ہنگامی حالات میں تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی فنڈ 'تعلیم انتظار نہیں کر سکتی' (ای سی ڈبلیو) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر یاسمین شریف نے یو این نیوز کو بتایا کہ جنگوں کے بعد موسمیاتی تبدیلی نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم اور بالآخر ان کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔
'ای سی ڈبلیو' کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے فوری اور براہ راست اثرات سے 62 ملین بچوں اور نوعمر افراد کی تعلیم میں خلل آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سیلاب سے تقریباً 29 ہزار سکولوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ صومالیہ اور شاخ افریقہ میں خشک سالی سے بہت بڑی تعداد میں بچوں اور نوجوانوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
'مالی وسائل کی کمی نہیں'
یاسمین شریف نے کہا کہ تعلیم کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایجنڈے میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری کے بغیر موسمیاتی تبدیلی پر خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالر ضائع جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی کمی ہے۔ اگر 5 فیصد عسکری اخراجات کو ہی تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر خرچ کر دیا جائے تو اس مقصد کے لیے 100 ارب ڈالر دستیاب ہوں گے۔ اسی لیے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔
خوراک میں تبدیلی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی کارمین بوربانو نے بتایا کہ کانفرنس کے ایک روز تعلیم، نوجوانوں اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کے مابین تعلق کے حوالے سے مخصوص موضوع پر بات ہو گی۔
کارمین بوربانو 'ڈبلیو ایف پی' کے زیراہتمام سکول کے بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سماجی مدد کے سب سے بڑے پروگرام کی حیثیت سے ان کا ادارہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ایک تہائی آبادی کی خوراک میں تبدیلی لا رہا ہے اور اس کے موسمیاتی اہداف پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
اس پروگرام کے تحت کرہ ارض اور بچوں کی صحت کے لیے سکولوں کے کھانے میں تبدیلی لانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کھانا بنانے میں ماحول دوست توانائی کے استعمال سے سرسبز رقبے میں آنے والی کمی کو بھی روکا جا سکے گا اور سکولوں کے قریب آبادیوں کو قابل تجدید توانائی کے استعمال کی جانب راغب کیا جا سکے گا۔
انہوں نے 'کاپ 28' میں منظور کردہ نظام ہائے خوراک کے اعلامیے میں سکولوں کے کھانے کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔