انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گھانا: رکن ممالک کا یو این امن کاری کے ساتھ وابستگی کا اعادہ

قیام امن کی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل جین پیئر لاکواء گھانا میں ہونے والے وزارتی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
United Nations
قیام امن کی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل جین پیئر لاکواء گھانا میں ہونے والے وزارتی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

گھانا: رکن ممالک کا یو این امن کاری کے ساتھ وابستگی کا اعادہ

امن اور سلامتی

دنیا بھر کے ممالک نے اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے اہلکاروں اور تربیت کی فراہمی کے ٹھوس وعدے کیے ہیں۔

گھانا کے دارالحکومت عکرہ میں منعقدہ اقوام متحدہ کے 'وزارتی اجلاس برائے قیام امن' میں 91 ممالک اور تین بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکا نے دنیا بھر میں قیام امن کے لیے اپنے اجتماعی عزم اور سیاسی تعاون کا وعدہ کیا۔ یہ 2014 کے بعد اس حوالے سے سربراہان مملکت و حکومت یا وزرا کی سطح کا تازہ ترین اجلاس تھا۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے امن اہلکار دنیا کے مشکل ترین حالات میں کام کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے ارضی سیاسی تناؤ اور پیچیدہ تنازعات نے ان کے لیے خطرات کو پہلے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ علاوہ ازیں، انہیں اور ان کے کام سے مستفید ہونے والے لوگوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھی ہدف بنایا جانے لگا ہے۔امن کارروائیاں انجام دینے والوں کو ایسے اہداف پر بھی کام کرنا پڑتا ہے جن کے لیے  ان کے پاس صلاحیت اور وسائل نہیں ہوتے۔ 

تعاون کے وعدے

اجلاس میں 57 ارکان نے قیام امن کی کارروائیوں میں خامیوں کو دور کرنے اور اہداف کی تکمیل کے لیے اپنے کام کو بہتر بنانے کے نئے وعدے کیے۔ ان میں تشدد کی روک تھام، شہریوں کو تحفظ دینے اور قیام امن کی کارروائیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ 

33 رکن ممالک نے امن کارروائیوں کے لیے فوج اور پولیس کے 110 نئے یونٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ 45 ممالک نے امن کارروائیوں کے دوران معلومات کے حصول، شہریوں کے تحفظ، صنفی اعتبار سے حساس قیادت اور جنسی استحصال و بدسلوکی جیسے مسائل پر خصوصی تربیت کی فراہمی کے وعدے کیے۔

اس موقع پر گھانا کی وزیر برائے امور خارجہ و علاقائی انضمام شرلے آیورکور بوچوے نے کہا کہ اس تاریخی اجلاس میں کیے جانے والے ٹھوس وعدوں سے اقوام متحدہ کو امن کارروائیوں کے لیے پیچیدہ ماحول میں مشکل کام انجام دینا آسان ہو جائے گا۔ 

سیاسی عزم کی ضرورت

قیام امن کی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل جین پیئر لاکواء نے کہا کہ قیام امن کا بنیادی مقصد فریقین کو امن معاہدوں اور متعلقہ سیاسی عمل میں تعاون مہیا کر کے تنازعات حل کرنے میں مدد دینا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں کمزور ترین ممالک اور آبادیوں میں جاری جنگ کے غبار میں امن کارروائیوں کی 75 سالہ تاریخ کو فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم قیام امن کا عمل کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے اور کوئی اکیلے یہ مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔ پائیدار امن کے لیے سیاسی ارادے اور رکن ممالک کی فعال اور متحدہ شمولیت درکار ہے۔ 

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری شہریار اکبر خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کا امن عمل فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ بڑھتے ہوئے حملوں، پیچیدہ اہداف، نئے تنازعات اور پرانے جھگڑوں کے ہوتے ہوئے یہ کام نئے عزم اور رکن ممالک کے مابین مضبوط شراکتوں کا تقاضا کرتا ہے۔

اکیانوے ممالک کے مندوب امن کاری پر وزارتی کانفرنس کے لیے گھانا میں اکٹھے ہوئے تھے۔
United Nations
اکیانوے ممالک کے مندوب امن کاری پر وزارتی کانفرنس کے لیے گھانا میں اکٹھے ہوئے تھے۔

چین کے نمائندے جنرل کی لِنگ ژو نے تبدیلی اور شورش کا سامنا کرتی دنیا کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے حقیقی کثیرفریقی طریقے اختیار کرنے پر زور دیا۔ 

ہنگری کے وزیر خارجہ و تجارت پیٹر زیجارٹو نے بڑھتے ہوئے تنازعات اور عالمی امن کو لاحق خطرات کی موجودگی میں قیام امن اور اسے برقرار رکھنے میں اقوام متحدہ کو بڑا کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا بھر میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے تو اس کے نمایاں نتائج سامنے آئیں گے۔ اس طرح مزید مسلح تنازعات پر قابو پایا جا سکے گا، مزید مسائل کے پُرامن حل نکالے جا سکیں گے اور تیسری عالمی جنگ کے خدشے کا خاتمہ ہو سکے گا۔

کینیا کی حکومت میں کابینہ کے سیکرٹری ایڈن بیئر ڈوئے نے کہا کہ سلامتی کے بہت بڑے اور بڑھتے ہوئے مسائل کی موجودگی میں امن کارروائیوں کے لیے وسائل اور اہلیتوں کی ضرورت ہے۔ 

معیار اور ساکھ کا معاملہ

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے انتظامی حکمت عملی، پالیسی و عملدرآمد کیتھرین پولارڈ نے کہا کہ ہر امن اہلکار کو اپنے کام میں اقوام متحدہ کے معیارات اور ساکھ کو برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ مقامی لوگوں میں قبولیت حاصل کرنے اور اپنے کام کی موثر انجام دہی کا لازمی تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن اہلکاروں کی بڑی اکثریت یہ ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ایک چھوٹی سی اقلیت کے افسوس ناک اقدامات کی وجہ سے بہت سے قابل احترام اہلکاروں کی کاوشیں گہنا جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض اہلکار اپنے کام میں بہت بڑی قربانیاں بھی دیتے ہیں۔

گھانا میں امن کاری پر وزارتی کانفرنس کے دوران فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
Musicians and dancers perform at the UN Peacekeeping 2023 Ministerial meeting in Ghana.
گھانا میں امن کاری پر وزارتی کانفرنس کے دوران فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پُرامن اور محفوظ دنیا کی امید

کانفرس میں شریک ممالک نے ماحولیاتی انتطام کو بہتر بنانے اور قیام امن کی کارروائیوں کے لیے تزویراتی رابطوں کی صلاحیت مضبوط کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ اس میں غلط اور گمراہ کن اطلاعات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔

اجلاس کے اختتام پر گھانا کے وزیر دفاع ڈومینیک نیٹیول نے کہا کہ اس کانفرنس میں قائم ہونے والے تعلقات اور اس دوران کیے جانے والے وعدے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی بدولت دنیا کو مزید پُرامن اور محفوط بنایا جا سکے گا اور ان کے ثمرات آنے والے برسوں میں ظاہر ہوں گے۔ 

یہ پہلا موقع ہے جب امن کارروائیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے اجلاس کا انعقاد براعظم افریقہ میں ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ اجلاس امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور جمہوریہ کوریا میں منعقد ہو چکے ہیں۔ 

آئندہ اجلاس 2025 میں جرمنی میں ہو گا۔