کاپ28: موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں غیر محفوظ ملکوں کو ترجیح دی جائے
'کاپ 28' میں پانچویں روز ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے سامنے سب سے زیادہ غیرمحفوظ لوگوں کے لیے مالی مدد کی فراہمی کا معاملہ بات چیت کا مرکز رہا جن میں نوجوان اور خواتین سرفہرست ہیں۔
اس موقع پر دنیا بھر سے آئے متعدد شرکا نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی اتھل پتھل کے تباہ کن اثرات کے بارے میں بتایا۔انہوں نے نقصان اور تباہی کے فنڈ سے مالی وسائل کی فراہمی میں ایسے علاقوں کو ترجیح دینے کی بات کی جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (اوچا)کے نائب سربراہ جوائس سویا نے ان مالی وسائل میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔ کاپ میں مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں کے سروں پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے۔
اوچا نے ہنگامی اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی فنڈ (سی ای آر ایف) کے تحت 'کلائمیٹ ایکشن اکاؤنٹ' قائم کیا ہے۔ اس کا مقصد سیلاب، خشک سالی، طوفانوں اور شدید گرمی جیسی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے اضافی ذرائع ممکن بنانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کا کہنا ہے کہ 3.5 ارب لوگ یا دنیا کی تقریباً نصف آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلی سے بڑے درجے کے خطرات لاحق ہیں۔
گھروں اور روزگار کی تباہی
دبئی میں جاری اقوام متحدہ کی اس عالمی موسمیاتی کانفرنس میں سینیگال سے تعلق رکھنے والی نوجوان گلوکارہ اومی گوئی بھی شریک ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں ان کا آبائی گھر بڑھتے سمندر کی نذر ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی حدت اور سینیگال کے معاملے میں دیکھا جائے تو سطح سمندر میں اضافے سے روزگار اور گھر تباہ ہو رہے ہیں، غربت اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ خطرناک راستوں سے مہاجرت اختیار کر رہے ہیں۔ نوجوان بہتر حالات کی تلاش میں سمندری سفر کا خطرہ مول لیتے ہیں اور اس دوران بہت سے لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
650 ملین ڈالر کے وعدے
موسمی شدت کے واقعات دنیا بھر میں بھاری نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے 'ڈبلیو ایم او' کے زیرقیادت 'یونائیٹڈ ان سائنس' رپورٹ کے مطابق 1970 اور 2021 کے درمیان ایسے واقعات میں 4.3 ٹریلین ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ ایسے بیشتر واقعات ترقی پذیر ممالک میں پیش آئے۔
موسمیاتی تبدیلی کے سامنے غیرمحفوظ ممالک کو اس مسئلے کے بدترین اثرات سے تحفظ دینے کے لیے گزشتہ برس شرم الشیخ میں ہونے والی کاپ 27 میں نقصان اور تباہی کے فنڈ پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دبئی میں جاری حالیہ کاپ کے پہلے روز اس فنڈ کو فعال کرنے پر اتفاق ہوا جو اس کانفرنس میں حاصل ہونے والی پہلی بڑی کامیاب ہے۔
اس فنڈ کے لیے اب تک 650 ملین ڈالر سے زیادہ رقم دینے کے وعدے کیے جا چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ علاقوں کی نمائندگی کرنے والوں نے مندوبین پر زور دیا ہےکہ ان مالی وسائل کی اُن لوگوں کو فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
غیرمحفوظ لوگ
دنیا بھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والے 110 ملین سے زیادہ لوگوں کی بڑی تعداد موسمی خطرات کے باعث اپنے علاقے چھوڑ رہی ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (او سی ایچ اے) کے سربراہ فلیپو گرینڈ نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ہنگامی موسمی حالات کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف منصوبہ بندی اور وسائل مختص کیے جانے کے عمل میں ان لوگوں کو بھی نمائندگی ملنی چاہیے۔
'او سی ایچ اے' کی موسمیاتی ٹیم کے سربراہ گریگ پولے نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ یہ شدید ناانصافی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے وہی لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کا یہ مسئلہ پیدا کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا معاملہ ہو تو یہ ممالک پچھلی صفوں میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
تاریک زندگی
کاپ 28' میں موسمیاتی بحران کے انسانوں پر اثرات بحث مباحثے کا مرکز ہیں۔ کانفرنس میں 'یو این ایچ سی آر' اور 'آئی او ایم' کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں متاثرہ علاقوں سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم مندوبین توجہ کا مرکز رہے۔
سول سوسائٹی کے ادارے گلوبل پلیٹ فارم فار ایکشن کی رکن جوئل ہانگی نے جموریہ کانگو (ڈی آر سی) کے کاکاؤما کیمپ میں پناہ گزین کی حیثیت سے خود کو پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیمپ میں 94 فیصد سے زیادہ پناہ گزینوں کو بجلی تک قابل بھروسہ اور پائیدار رسائی حاصل نہیں ہے۔ اگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کام لیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تاریکی میں عدم تحفط کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کیمپ میں بہت سے لوگ اس لیے اپنی زندگیوں کو تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی بجلی تک رسائی نہیں ہے۔
ہانگی نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہیں اور کیمپ میں لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور کھانا بنانے کے ماحول دوست طریقے متعارف کرا رہی ہیں۔
تخفیف پر سرمایہ کاری
کینیا کی امدادی تنظیم 'گِو ڈائریکٹلی' کی رکن کیرولائن ٹیٹی نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جھیلنے والے لوگوں کو براہ راست نقد امداد دے کر بااختیار بنانے کی اہمیت کو واضح کیا۔ ان کی تنطیم 'یو این ایچ سی آر' کے اشتراک سے پناہ گزینوں کے لیے کام کرتی ہے۔
انہوں نے افریقہ ملک موزمبیق کے ایک منصوبے مثال دی جہاں رواں سال کے آغاز میں سمندری طوفان فریڈی کی آمد سے پہلے لوگوں کو نقد امداد مہیا کی گئی تھی۔ اس امداد کی بدولت لوگوں کے لیے خطرے کی زد پر آیا علاقہ چھوڑنا اور سیلاب سے بچاؤ کی تیاری کرنا ممکن ہوا۔ اس طرح بنیادی ڈھانچے کو سیلابی پانی کے سامنے مضبوط و محفوظ بنانے میں بھی مدد ملی۔
انہوں نے ملاوی میں جاری ایک منصوبے کا حوالہ بھی دیا جہاں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ لوگوں کو 800 ڈالر نقد امداد فراہم کی گئی تاکہ وہ قدرتی آفت آنے سے پہلے محفوظ جگہوں پر منتقل ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنےپر سرمایہ کاری کی جائے تو اس کے لیے سستے، تیزرفتار اور سادہ طریقوں سے مدد لی جا سکتی ہے جن کی بدولت بعض مسائل سے کامیاب طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔
اختراعی امدادی اقدامات
کانفرنس میں شریک مندوبین نے مزید مشمولہ اور اختراعی امدادی اقدامات کرنے پر زور دیا۔ ایسے اقدامات کے لیے نقل مکانی کرنے والے لوگوں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے اور ان کی بدولت امداد کے لیے متواتر محتاجی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
اسی بات کو دہراتے ہوئے اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے سربراہ برنہارڈ کوواچ نے یو این نیوز کو بتایا کہ اختراعات مختصر مدتی طور پر بھی پُرامید ہو سکتی ہیں اور ان کی بدولت اب بھی تبدیلی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہتر نتائج کی حامل ایسی اختراعات پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جن سے موسمیاتی تبدیلی کے سنگین ترین اثرات کو کم کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے 'ڈبلیو ایف پی' نے اختراعات کی رفتار تیز کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان کے لیے نجی انشورنس سے کام لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد چھوٹے کسانوں کو فائدہ پہنچانا یا انہیں سیٹلائٹ تصاویر یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔
علاوہ ازیں اس میں موسمیاتی آفات سے بری طرح متاثر ہونے والی اور روایتی مالی معاونت سے محروم خواتین کسانوں اور کاروباری منتظمین کے لیے چھوٹے قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔