انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کاپ28: دریائے سندھ کی بحالیِ صحت کا منصوبہ بھی زیر بحث

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو ’لیونگ انڈس‘ منصوبے پر بات کر رہے ہیں جبکہ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے صدر عادل نجم، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریچل میکڈونل اور ایشیائ…
©FAO/Russell Cabanting
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو ’لیونگ انڈس‘ منصوبے پر بات کر رہے ہیں جبکہ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے صدر عادل نجم، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریچل میکڈونل اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ژاو ہونگ یانگ بھی مباحثے میں شریک ہیں۔

کاپ28: دریائے سندھ کی بحالیِ صحت کا منصوبہ بھی زیر بحث

موسم اور ماحول

پاکستان کی تین چوتھائی معیشت کا انحصار دریائے سندھ پر ہے جس کے ماحولیاتی نظام اور اس سے وابستہ کروڑوں لوگوں کی زندگی اور روزگار کو تحفظ دینے کا اقدام 'لیونگ انڈس' بھی کاپ 28 کے تیسرے روز موضوع بحث رہا۔

'لیونگ انڈس' پاکستان کا سب سے بڑا موسمیاتی اقدام ہے جس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی معاونت سے ہوا تھا۔

Tweet URL

اس منصوبے کا مقصد دریا میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور آلودگی پر قابو پانا ہے، جس سے آبی و جنگلی حیات کو تحفط ملے گا اور دریا کی صحت بحال ہونے سے پاکستان کی معیشت خصوصاً خوراک و زراعت کے شعبے میں مزید ترقی ہو گی۔ 

دبئی میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس میں اس اقدام پر بات چیت پاکستان کے پویلین میں ہوئی۔ 

اس موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے صدر عادل نجم، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریچل میکڈونل اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ژاو ہونگ یانگ نے دریائے سندھ کے قدرتی نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بات کی۔

ماحولیاتی انحطاط

دریائے سندھ پانچ ہزار سال سے اس خطے کی سماجی، ثقافتی اور معاشی زندگی کی فعال بنیاد ہے۔ پاکستان کے 10 بڑے شہروں میں سے 9 دریائے سندھ کے کناروں سے 50 کلومیٹر کی حدود میں واقع ہیں جو ملک کی 90 فیصد آبادی کا مسکن ہیں۔ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ قابل کاشت اراضی اسی دریا کے پانی سےسیراب ہوتی ہے۔ 

بڑھتی آبادی، صنعتوں اور کئی طرح کی انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پھیلنے والی آلودگی اور اس کے موسمیاتی اثرات نے اس دریا کے لیے بہت سے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس طرح دریا کے اندر اور باہر قدرتی ماحول کے انحطاط کے براہ راست اثرات خوراک کی پیداوار پر مرتب ہو رہے ہیں۔ 

اجتماعی کوششوں کی ضرورت

'لیونگ انڈس' اقدام پر مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا کہ زرعی غذا کی پیداوار بڑھانا موسمیاتی تبدیلی سے لاحق بہت سے مسائل کا حل ہے۔ 'لیونگ انڈس' اقدام کے ذریعے دریائے سندھ کی ماحولیاتی صحت بحال کرنے سے پاکستان میں زراعت و خوراک کو لاحق بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ 

انہوں نےکہا کہ ایسے اقدامات کے لیے اجتماعی طور پر سیکھنا، سوچنا، طریقے وضع کرنا اور بہت سے شراکت داروں کا اکٹھے ہو کر کام کرنا ضروری ہے۔ 

ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ادارہ خوراک و زراعت 'لیونگ انڈس' اقدام کے لیے پاکستان کو اپنی مہارتیں پیش کرے گا۔ اس سلسلے میں بہت سے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر دریائے سندھ کے ماحولی نظام کی بحالی اور اسے تحفظ دینے کا کام کیا جائے گا۔

لیونگ انڈس کئی ساجھے داروں پر مشتمل ایک منصوبہ ہے جس کے تحت عملی اقدامات اور قدرتی ماحول کے تحفظ کی اہمیت بارے آگاہی بیدار کر کے دریائے سندھ کی صحت بحال کی جائے گی۔
Living Indus
لیونگ انڈس کئی ساجھے داروں پر مشتمل ایک منصوبہ ہے جس کے تحت عملی اقدامات اور قدرتی ماحول کے تحفظ کی اہمیت بارے آگاہی بیدار کر کے دریائے سندھ کی صحت بحال کی جائے گی۔

سندھ طاس کے زوال کا خطرہ 

'ڈبلیو ڈبلیو ایف' کے صدر عادل نجم نے مندوبین کو دریائے سندھ کی ماحولیاتی بحالی اور اس بارے میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو متواتر شدت اختیار کرتی موسمیاتی تبدیلی اور اس سے دریائے سندھ کے طاس میں ہونے والی ممکنہ تباہی کی صورت میں بہت بڑا خطرہ درپیش ہے جبکہ خشکی سے پانی میں منتقل ہونے والی آلودگی نے اس خطرے کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ ان حالات میں دریائے سندھ کے پانیوں کو بھرپور انداز میں رواں رکھنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر سالانہ 7 سے 14 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری درکار ہے۔

عادل نجم اس اقدام کے لیے حکومت پاکستان کے مشیر اعلیٰ بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس دریائے سندھ میں آنے والے سیلاب کے بعد پاکستان میں تعمیر نو کے کام میں دریائے سندھ کے پانی اور وسائل کو محفوظ رکھنے اور اس کے انحطاط پذیر ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے کی ضرورت شدت سے سامنے آئی ہے۔ 

نقصان اور تباہی: ازالے کی فوری ضرورت 

کانفرنس کے تیسرے روز پاکستان کے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے 'کاپ 28' کے مندوبین کو دریائے سندھ کے طاس کی بحالی کے لیے جاری کوششوں اور کے لیے درکار اقدامات سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے ممالک میں ہوتا ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلی کے کڑے ترین اثرات کا سامنا ہے۔ 'لیونگ انڈس' اقدام کا مقصد ان حالات سے نمٹنے کے لیے ماحول اور فطرت کو تحفط دینا ہے۔ 

پاکستانی وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے جن نقصانات اور تباہی کا سامنا ہے ان کے ازالے کے لیے انہیں فوری طور پر مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مالی وسائل کی فراہمی قرضوں یا ترقیاتی گرانٹ کی صورت میں نہیں ہونی چاہیے کیونکہ غریب ممالک پر پہلے ہی قرضوں کا بوجھ ہے۔

یاد رہے کہ کاپ28 کے پہلے روز 'نقصان اور تباہی کے ازالے کے فنڈ' کو فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس فنڈ کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کو سالانہ 100 ارب ڈالر مہیا کریں گے۔

’کلین انڈس‘ منصوبے کے تحت دریائے سندھ کے کناروں پر کچرے کی صفائی کی مہم پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیراہتمام شروع کی گئی ہے۔
FAO/Pakistan
’کلین انڈس‘ منصوبے کے تحت دریائے سندھ کے کناروں پر کچرے کی صفائی کی مہم پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیراہتمام شروع کی گئی ہے۔

'زندہ دریا'

'لیونگ انڈس' دریائے سندھ کی ماحولیاتی صحت کو بحال کرنے کی کوششیں مجتمع کرنے کا اقدام ہے۔ اس کے تحت ابتدائی طور پر 25 ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے ذریعے دریا کے طاس میں قدرتی و ارضی ماحول، تازہ پانی اور ساحلی و سمندری ماحولی نظام کو تحفظ دینے، اسے محفوظ رکھنے اور اس کی بحالی کے لیے قدرتی طریقوں سے کام لیا جانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی بنیادی طور پر 'پانی کا مسئلہ' ہے، اور لیونگ انڈس منصوبے کی بدولت پالیسی سازوں اور شہریوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے دریائے سندھ اور اس سے وابستہ لوگوں کی صحت و زندگی کو تحفظ دینے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں مدد ملے گی۔