انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: لوٹنے والے مہاجرین کی ضروریات زیادہ وسائل کم

اب تک افغانستان سے تعلق رکھنے والے 370,000 سے زیادہ لوگ پاکستان چھوڑ کر اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔
Mehrab Afridi
اب تک افغانستان سے تعلق رکھنے والے 370,000 سے زیادہ لوگ پاکستان چھوڑ کر اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

افغانستان: لوٹنے والے مہاجرین کی ضروریات زیادہ وسائل کم

مہاجرین اور پناہ گزین

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں کو سخت سردی کا موسم گزارنے میں مدد دینے کے لیے 2 کروڑ 63 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے لوگ ایسے حالات میں واپس آئے ہیں جب ملکی آبادی کے بڑے حصے کو بقا کے خطرات کا سامنا ہے۔ واپس آنے والوں کے پاس نہ تو کوئی مال اسباب ہے اور نہ ہی انہیں پناہ میسر ہے۔

Tweet URL

امدادی اداروں کے مطابق، ان لوگوں کا کہنا ہے وہ نہیں جانتے کہ سخت سردی میں کیسے گزارا کریں گے۔

اکتوبر میں پاکستان کی حکومت نے ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپس بھیجے جانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اب تک افغانستان سے تعلق رکھنے والے 370,000 سے زیادہ لوگ پاکستان چھوڑ کر اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ 

عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی قیادت میں 'ڈبلیو ایف پی' اقوام متحدہ کے اداروں اور این جی اوز کے تعاون سے دونوں ممالک کے مابین دو سرحدی گزرگاہوں پر ان لوگوں کو مدد پہنچا رہا ہے۔ یہ مقامات افغان شہر جلال آباد اور پاکستان کے شہر پشاور اور افغان شہر قندھار اور پاکستان میں کوئٹہ کے درمیان واقع ہیں۔ 

سردی اور بے گھری

افغانستان میں طویل موسم سرما کے دوران سڑکیں برف سے ڈھک جاتی ہیں اور پورے کےپورے علاقوں کا دوسری جگہوں سے رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں 'ڈبلیو ایف پی' جیسے امدادی اداروں کے لیے ان تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ وسائل سے محروم لوگ حرارت حاصل کرنےکے  لیے کوڑا کرکٹ جمع کر کے جلاتے ہیں۔

 'آئی او ایم' کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پہلے ہی 60 لاکھ لوگ اندرون ملک بے گھر ہیں۔ ایسے میں پاکستان سے واپس آنے والوں کو پُرخطر اور غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

امدادی وسائل کی قلت

 ملک بھر میں بہت سے لوگ جمع شدہ خوراک ختم ہو جانے کے بعد اپنی بقا کے لیے 'ڈبلیو ایف پی' کی غذائی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔

نومبر میں ادارے نے پاکستان سے واپس آنے والے تقریباً 280,000 افراد کو خوراک اور نقدی فراہم کی تھی۔ تاہم یہ مدد جس امدادی پروگرام سے دی گئی اسے پہلے ہی مالی وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

افغانستان کے بہت سے حصوں میں لوگ اکتوبر میں آنے والے متعدد زلزلوں کے اثرات سے بحال نہیں ہو سکے۔ صوبہ ہرات میں آنے والے اس زلزلے نے متعدد دیہات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔ اس طرح جو وسائل پاکستان سے واپس آنے والوں کی مدد کے لیے استعمال ہونا تھے وہ زلزلہ متاثرین کی مدد پر خرچ ہو رہے ہیں۔

پاکستان سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کو ننگرہار میں نقد مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
© WFP/Philippe Kropf