انسانی کہانیاں عالمی تناظر
دبئی کے ایکسپو سٹی میں کاپ28 کانفرنس کے لیے انڈونیشیا کا پویلین۔

کاپ28: موسمیاتی تباہی سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت، گوتیرش

COP28/Walaa Alshaer
دبئی کے ایکسپو سٹی میں کاپ28 کانفرنس کے لیے انڈونیشیا کا پویلین۔

کاپ28: موسمیاتی تباہی سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ کرہ ارض کو تباہ کن موسمیاتی خطرات سے بچانے کے لیے تعاون اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے 'کاپ 28' میں جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں کو حقیقی قیادت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس 'کاپ 28' میں انہوں نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ انسانیت کا مقدر غیریقینی کا شکار ہے جسے موسمیاتی تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

Tweet URL

معدنی ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کے دیرینہ وعدے کو پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرہ ارض کو لاحق اس بیماری کا علاج عالمی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔ 

انہوں نے منگل کو 'کاپ 28' کے پہلے روز نقصان اور تباہی کے فنڈ کو فعال کرنے پر اتفاق رائے کا خیرمقدم بھی کیا۔ اس فنڈ کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ غریب ملکوں کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر مہیا کریں گے۔ 

'کاپ 28' دبئی کے ایکسپو سنٹر میں واقع الواہا تھیٹر میں ہو رہی ہے جہاں دنیا بھر سے سربراہان ریاست کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

160 سے زیادہ ممالک کے رہنما کانفرنس میں آئندہ دو روز کے دوران موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی پیش کریں گے۔ ان میں برازیل، برطانیہ، فرانس، ترکیہ اور انڈیا کے رہنما بھی شامل ہیں۔

ہدف سے کوسوں دور

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے انٹارکٹکا اور نیپال کے اپنے حالیہ دوروں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے ان مواقع پر انہوں نے برف اور گلیشیئروں کے پگھلاؤ کا براہ راست مشاہدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں مقامات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر ہیں لیکن ایک ہی بحران انہیں یکساں طور سے متاثر کر رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی حدت میں اضافے سے ممالک پر مالی بوجھ پڑ رہا ہے، خوراک کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں، توانائی کی منڈیاں بحران کا شکار ہیں اور رہن سہن کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول سے کوسوں دور اور 1.5 ڈگری کے ہدف کے حصول کی صلاحیت کھونے سے بہت قریب ہے۔

کاپ28 کانفرنس میں برازیل کے مقامی لوگوں کی نمائندگی ازابیلا پریسٹس دا فونسیکا کر رہی ہیں۔
COP28/Christophe Viseux

توجہ طلب شعبے

انتونیو گوتیرش نے واضح کیا کہ دبئی کانفرنس کی کامیابی کا دارومدار پیرس معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق جائزے کے نتائج پر ہو گا۔ اس دوران پہلی مرتبہ عالمی حدت میں کمی لانے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔ یہی کوششیں دنیا کو اس مسئلے سے نمٹنے کی جانب درست راہ پر ڈال سکتی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس جائزے کے ذریعے کرہ ارض کو موسمیاتی حوالے سے تین اہم شعبوں میں لاحق سنگین مسائل کا حل سامنے آنا چاہیے۔

اس میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا معاملہ سرفہرست ہے۔ موجودہ پالیسیوں کے باعث متوقع طور پر رواں صدی کے آخر تک عالمی حدت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 3 ڈگری سیلسیئس اضافہ ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ قابل تجدید توانائی کی جانب منصفانہ اور مساوی منتقلی کی رفتار بھی بڑھانا ہو گی۔ 1.5 ڈگری کے ہدف کا حصول معدنی ایندھن پر انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔

تیسرے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیرمساوی اور منقسم دنیا میں موسمیاتی انصاف ممکن بنانے کے دیرینہ وعدے کی تکمیل ضرورت ہے۔ اس کے لیے غریب ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور نقصان و تباہی کے ازالے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔

برطانیہ کے شاہ چارلس سوئم کاپ28 کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
COP28/Christophe Viseux

فیصلہ کن موڑ

دوسرے روز برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آٹھ سال پہلے 'کاپ 21' میں بھی خطاب کیا تھا۔ اُس کانفرنس میں ممالک نے مشترکہ بھلائی کے لیے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ دیے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ خواہش کرتے ہیں کہ 'کاپ 28' بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو۔

اپنے خطاب میں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات پر بات کرتے ہوئے پاکستان اور انڈیا میں آنے والے سیلاب اور امریکہ، کینیڈا اور یونان کے جنگلوں میں لگنے والی آگ کا تذکرہ کیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم آہنگی اور توازن کی بنیاد پر فطرت کے نظام کو فوری بحال کیے بغیر انسانیت کی بقا کو خطرات لاحق رہیں گے۔

سب سے پہلے لوگ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے کہا کہ وہ خود جزائر پر مشتمل چھوٹے ترقی پزیر ملک کے شہری ہیں۔ اس حیثیت سے وہ جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان جزائر اور ان کی ثقافت و تاریخ کو معدومیت کے خطرے کا سامنا ہے۔

Tweet URL

ڈینس فرانسس کا تعلق غرب الہند کے ملک ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو سے ہے جسے سطح سمندر میں تیزی سے ہونے والے اضافے سے بقا کا خطرہ درپیش ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عالمی حدت میں اضافے کی موجودہ رفتار کو دیکھا جائے تو اس صدی کے آخر تک یہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 3 ڈگری سیلسئس تک بڑھ جائے گی۔ اس کے بجائے پیرس معاہدے میں اس اضافے کی حد 1.5 ڈگری سیلسیئس مقرر کی گئی ہے۔ 

انہوں نے پائیدار توانائی کے نظام کی جانب منصفانہ منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ایسے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے بھی کہا جو مزید قابل رسائی اور مزید آسانی سے دستیاب ہوں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو اپنے حالات کے مطابق منفرد طرز کے بحرانوں سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے مندوبین پر زور دیا کہ وہ 'کاپ 28' میں بات چیت کے دوران اپنے تجربات سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

مقامی لوگوں کی نمائندگی

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں مختلف خطوں کے مقامی سماجی گروہوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے ان لوگوں کی بقا کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

ایسے ہی نوجوانوں کے زیرقیادت کام کرنے والی تنظیم 'انسٹیٹیوٹ زیگ' کی شریک بانی اور اس کے ماحولیاتی شعبے کی ڈائریکٹر ازابیل پریسٹیس دا فونیسکا بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہی ہیں جو ماحولیاتی بحرانوں پر فوری قابو پانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے شرکا سے کہا کہ فطرت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اس جنگ میں ان کا ساتھ دیں کیونکہ باہم مل کر تبدیلی لانا ممکن ہے۔