پاکستان: موسمیاتی بحران سے ملیریا کے پھیلاؤ میں پانچ گنا اضافہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ28 کے موقع پر دنیا بھر میں ملیریا کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ملیریا کے پھیلاؤ میں پانچ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے ملیریا کے تدارک کی کوششوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ملیریا پر ادارے کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں آنے والے سیلاب کے بعد پاکستان میں اس بیماری کے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں کھڑے پانی اور نمی کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ لوگ قوت مدافعت کی کمی کے باعث بھی اس بیماری کا آسان شکار بن رہے ہیں۔
پاکستان کے علاوہ ایتھوپیا، نائجیریا، پاپوا نیوگنی اور یوگنڈا میں بھی اس مرض کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ملیریا کا پھیلاؤ: بنیادی وجوہات
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ ایسے علاقوں میں ملیریا کے خلاف پیش رفت کو خاص طور پر خطرہ ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے مقابل انتہائی غیرمحفوط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملیریا کی روک تھام کے اقدامات میں اضافے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کووڈ وبا کے باعث صحت عامہ کی خدمات میں آنے والا خلل، انسانی بحران، ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت اور عالمی حدت کے اثرات اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی اور ملیریا کے باہمی تعلق کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نمی اور بارشوں کے باعث ملیریا پھیلانے والے اینوفیلیز مچھروں کی سرگرمی میں تبدیلی آتی ہے اور اس کی بقا کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے 2022 میں 24 کروڑ 90 لاکھ افراد کے ملیریا میں مبتلا ہونے کے بارے میں بتایا تھا ۔ یہ تعداد 2021 کے مقابلے میں 20 لاکھ زیادہ تھی جبکہ کووڈ سے قبل 2016 میں یہ تعداد 23 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔
موسمیاتی تغیر کا کردار
'ڈبلیو ایچ او' نےکہا ہے کہ موسمیاتی تغیر سے ملیریا کے رحجان پر بالواسطہ اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں ملیریا سے بچاؤ کی خدمات تک رسائی محدود ہو جانے اور مچھر دانیوں، ادویات اور ویکسین کی ترسیل کے نظام میں خلل آنے سے مرض کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نقل مکانی سے بھی ملیریا کو پھیلنے میں مدد ملتی ہے۔ جب کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں تو انہیں یہ بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اگرچہ موسمیاتی تبدیلی ملیریا کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہے تاہم ادارے نے دیگر خطرات پر توجہ دینے پر بھی زور دیا ہے۔
افریقہ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کی ریجنل ڈائریکٹر مٹشیڈیسو موئٹی نے کہا ہے کہ ان عوامل میں طبی خدمات تک محدود رسائی، جنگیں، ہنگامی حالات، خدمات کی فراہمی پر کووڈ کے اثرات، ناکافی وسائل اور ملیریا کی روک تھام کے اقدامات پر غیریکساں طور سے عملدرآمد نمایاں ہیں۔
ملیریا کے خلاف کامیابیاں
رپورٹ میں ملیریا کے خلاف کامیابیوں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ کے تین ممالک میں ڈبلیو ایچ او کی سفارش کردہ نئی ویکسین آر ٹی ایس، ایس/اے ایس01 متعارف کرائی گئی ہے۔جن علاقوں میں اس ویکسین کو استعمال کیا گیا وہاں اس بیماری کی شدت کم ہو جانے کے علاوہ ابتدائی بچپن میں اس سے ہونے والی اموات میں 13 فیصد کمی آئی ہے۔
گزشتہ مہینے ایک اور محفوظ و موثر ویکسین آر21/میٹرکس۔ایم بھی متعارف کرائی گئی جسے افریقہ میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا جہاں ملیریا کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے۔
آئندہ اقدامات
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ملیریا کے خلاف پائیدار اور مضبوط اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کوششوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مین کمی لانےکی کوششوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ملیریا کے خلاف مربوط طریقہ ہائے کار وضع کرنے کے لیے پورے معاشرے کی شمولیت ضروری ہے۔
ادارے نے ملیریا کے خلاف جنگ میں وسائل بڑھانے، سیاسی عزم کو مضبوط کرنے، معلومات کی بنیاد پر حکمت عملی بنانے اور اختراعی کوششوں کو مزید موثر اور سستی ادویات کی تیاری پر مرتکز رکھنے کے لیے کہا ہے۔