اولمپیئن مو فرح آئی او ایم کے پہلے خیر سگالی سفیر مقرر
طویل فاصلے کی دوڑ میں چار مرتبہ اولمپک چیمپئن رہنے والے کھلاڑی سر مو فرح کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کا پہلا عالمی خیرسگالی سفیر مقرر کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ مو فرح نے کامیابیوں سے بھرپور طویل کیریئر کے بعد رواں سال ستمبر میں کھیل کو خیرباد کہا۔ گزشتہ سال انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بچپن میں انسانی سمگلنگ کے نتیجے میں صومالیہ سے برطانیہ پہنچے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے کے نتیجے میں انہوں نے جو حالات دیکھے ان کا سامنا کسی بچے کو نہیں ہونا چاہیے۔ انسانی سمگلنگ سے متاثرہ بچوں کو ان کا حق ملنا چاہیے اور وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح کھیلنے اور انہی کی طرح جینے کے حق دار ہیں۔
اعزاز کی بات
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ مو فرح کی اپنے پہلے عالمی خیرسگالی سفیر کی حیثیت سے تعیناتی عمل میں لانا ادارے کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان میں اور اس کے باہر چیمپئن اور انسانی سمگلنگ سے متاثرہ فرد کی حیثیت سے مو فرح آئی او ایم کے کام میں حقیقی لگن، عزم اور تحرک پیدا کریں گے۔ اس طرح نقل مکانی کرنے والے لاکھوں لوگوں سمیت سبھی کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔
کھیل سے تبدیلی
مو فرح کا کہنا ہے کہ وہ خیرسگالی سفیر کی اپنی حیثیت کو نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس میں انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے والے لوگوں کو تحفظ کی فراہمی کی اہمیت پر زور دینا بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں وہ خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں تبدیلی لانے میں کھیلوں کے اہم کردار بارے میں وکالت بھی کریں گے۔
مو فرح کے نام سے مشہور صومالی برٹش اتھلیٹ محمد مختار جمعہ فرح نے 2012 اور 2016 کے اولمپکس میں طویل فاصلے کی دوڑوں 5,000 میٹر اور 10,000 میٹر میں طلائی تمغات جیتے تھے۔ دو لگاتار اولمپکس میں ایسا کرنے والے وہ تاریخ میں دوسرے ایتھلیٹ تھے۔
اس سے پہلے فن لینڈ کے لاسے ویرین 1972 اور 1976 کے اولمپکس میں یہ کارنامہ سر انجام دے چکے تھے۔