غزہ: عارضی جنگ بندی سے ضرورت مندوں تک امداد پہنچنے کی امید
غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کا آغاز ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں نے اس پر عملدرآمد اور توسیع کی امید کرتے ہوئے تمام لوگوں کو امداد کی فراہمی کی ضرورت واضح کی ہے۔
جمعے کی صبح 7 بجے سے جنگ بندی شروع ہونے کے بعد مصر سے رفح کے سرحدی راستے سے علاقے میں امدادی سامان کی آمد جاری ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے معاہدے پر عمل ہو گا۔
انہوں نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اس سے مستقبل میں انسانی بنیادوں پر مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ معاہدہ غزہ، اسرائیل اور فریقین کے یرغمالیوں اور قیدیوں کے لیے آسانیاں لائے گا۔
96 گھنٹے کی جنگ بندی کے علاوہ حماس کی قید میں یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل سے رہا کرایا جانا بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔
شمالی غزہ کی ہنگامی ضروریات
اوچا کے ترجمان نے شمالی غزہ کے لوگوں کی اہم ضروریات کو واضح کیا جہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کے باعث اس کا جنوبی غزہ سے رابطہ منقطع رہا ہے اسی لیے وہاں امداد کی ضرورت بھی سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کے ابتدائی گھنٹوں میں نازک اور کشیدہ صورتحال کا تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امداد کی فراہمی کا راستہ بہت طویل ہے اور اس کے بہت سے حصوں پر امدادی اداروں کا کنٹرول نہیں ہے۔
ہسپتالوں سے انخلا جاری
جنگ سے پہلے شمالی غزہ میں فعال 24 ہسپتالوں میں سے 22 اب طبی خدمات مہیا کرنے کے قابل نہیں رہے یا ان میں نئے مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ دوسری جانب جنوب میں 11 طبی مراکز میں سے 8 ہی فعال ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ ان ہسپتالوں میں سے صرف ایک ہی میں شدید زخمیوں کے علاج یا پیچیدہ سرجری کی سہولت موجود ہے۔
ادارے کے ترجمان کرسچین لِنڈمیئر نے بھی جنگ بندی قائم رہنے اور اس میں اضافے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ کے ہسپتالوں خصوصاً انڈونیشیا ہسپتال اور الاہلی ہسپتال سے مریضوں اور عملے کی منتقلی کا کام جاری ہے۔
بدھ کو اقوام متحدہ کے اداروں اور فلسطینی ہلال احمر نے غزہ شہر کے الشفا ہسپتال سے 151 زخمیوں، دیگر مریضوں اور طبی عملے کو محفوط مقامات پر منتقل کیا۔
لِنڈ میئر نے کہا کہ 'ڈبلیو ایچ او' کو اس ہسپتال میں بدستور موجود 100 مریضوں اور طبی عملے کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔
تلاش و بچاؤ کے لیے ایندھن کی ضرورت
ادارے نے غزہ کی حکومت کے میڈیا دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی شام تک غزہ میں اموات کی تعداد 14,800 سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
جمعے کو صبح 7 بجے جنگ بندی شروع ہونے سے قبل اسرائیل نے غزہ پر فضا، زمین اور سمندر سے شدید بمباری کی۔ اس کے علاوہ فلسطینی مسلح گروہوں اور اسرائیل کی فوج کے مابین زمینی لڑائی میں بھی تیزی آئی۔ شمال میں جبالیہ کا علاقہ اس لڑائی کا مرکز تھا جس میں جانی نقصانات کی اطلاع ہے۔
جینز لائرکے نے غزہ میں لوگوں کو تباہ شدہ عمارتوں سے ملبے سے نکالنے کے لیے مزید ایندھن کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں تیل اقوام متحدہ کی نگرانی میں آتا ہے جس کی تقسیم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انرا) کے ذریعے ہوتی ہے۔
اوچا نے بتایا ہے کہ جمعرات کو مصر سے 75 ہزار لٹر ایندھن غزہ پہنچایا گیا۔ اسرائیل نے بڑی مقدار میں ایندھن لانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں روزانہ دو لاکھ لٹر ایندھن کی ضرورت ہے۔
عدم تحفظ کا احساس
اندازے کے مطابق غزہ میں 17 لاکھ لوگ بے گھر ہیں جن میں سے 10 لاکھ 'انرا' کے 150 مراکز میں میں قیام پذیر ہیں۔
اوچا کے مطابق جنوب میں 'انرا' کی پناہ گاہوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ لوگ ہیں۔ ان میں مرد اور لڑکے کھلی جگہوں پر، سکولوں کے صحن میں یا سڑکوں پر سوتے ہیں۔
'انرا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو اس خوف کے بغیر سونے کے قابل ہونا چاہیے کہ آیا وہ رات کے بعد زندہ رہ پائیں گے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحفط کا وہ کم از کم احساس ہے جو سبھی کو حاصل ہونا چاہیے۔