انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: یو این اداروں کی خواتین و بچوں کے لیے ہنگامی امدادی اپیل

فلسطینی خاتون ایک پرہجوم اندرونی پناہ گاہ کے فرش پر بیٹھی اپنے بچے کو پکڑے ہوئے ہے۔ پس منظر میں بچوں سمیت دیگر بے گھر افراد چٹائیوں اور کمبلوں پر آرام کر رہے ہیں۔ ہلال احمر کا ایک امدادی کارکن قریب ہی کھڑا ہے۔
WHO لوگ غزہ کے القدس ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں (فائل فوٹو)۔

غزہ: یو این اداروں کی خواتین و بچوں کے لیے ہنگامی امدادی اپیل

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے تین اداروں کی سربراہوں نے غزہ کی جنگ میں خواتین اور بچوں کی حفاطت کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ خواتین اور لڑکیاں اس جنگ میں غیرمتناسب طور سے تکالیف جھیل رہی ہیں جس کا اندازہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں میں ان کی 67 فیصد تعداد سے ہوتا ہے۔ 

یہ بات صنفی مساوات اور خواتین کے اختیار کے ادارے (یو این ویمن)، ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور فند برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کی سربراہان سیما باحوس، کیتھرین رسل اور نتالیا کینم نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ 

انہوں نے اسرائیل اور حماس کے مابین معاہدے اور اس کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ 

تینوں رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد 2712 کی اہمیت بھی واضح کی۔ اس قرارداد میں فوری اور طویل مدتی جنگ بندی اور شہریوں کو تحفظ دینے کے اقدامات کے لیے کہا گیا ہے۔

خواتین کی تنظیموں کا امدادی کام 

سب سے پہلے سیما باحوس نے کونسل کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر انہوں نے غزہ میں تشدد کی شدت اور شہری آبادی پر اس کے تباہ کن اثرات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے طبی سازوسامان، پانی، دردکش ادویات اور بیہوش کرنے کے انتظام کے بغیر بچوں کو جنم دینے والی خواتین کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا۔

سیما باحوس نے بتایا کہ غزہ میں خواتین کی دو ہی مخصوص پناہ گاہیں تھیں جو اب بند ہو چکی ہیں۔ تاہم خواتین کے زیرقیادت تنظیمیں کڑی مشکلات کے باوجود وہاں کام کر رہی ہیں۔ 

یو این ویمن کی سربراہ نے مغربی کنارے میں جاری کشیدگی پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری تنصیبات کے انہدام، کام کے اجازت ناموں کی منسوخی، آباد کاروں کے تشدد میں اضافے اور حراستوں نے خواتین کی زندگیوں اور روزگار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بچوں کے لیے خطرناک ترین جگہ

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے بچوں پر اس بحران کے سنگین اثرات کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق، 46 روز سے جاری تنازع میں 5,300 سے زیادہ فلسطینی بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ علاقے میں مجموعی ہلاکتوں کی 40 فیصد تعداد ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ باالفاظ دیگر، غزہ کی پٹی دنیا میں بچوں کے لیے خطرناک ترین جگہ بن چکی ہے۔جن بچوں کی جان بچ گئی ہے ان کی زندگیاں تواتر سے ہولناک واقعات دیکھنے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ہمیشہ کے  لیے تبدیل ہو گئی ہیں۔ 

کیتھرین رسل نے کہا کہ اس جنگ کے "اصل نقصانات" کا اندازہ بچوں کی زندگیوں سے ہو گا جو یا تو تشدد کی نذر ہو گئے یا جنہیں اس تشدد نے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

موت اور تباہی خوشی پر حاوی

نتالیا کینم نے غزہ کے مسئلے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ہسپتال بند ہو رہے ہیں اور ہزاروں حاملہ اور حالیہ دنوں بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو خطرات لاحق ہیں۔ جب نئی زندگی شروع ہوتی ہے تو یہ خوشی کا موقع ہونا چاہیے لیکن غزہ میں موت و تباہی اور خوف و دہشت اس خوشی پر حاوی ہے۔ حمل کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کی صورتحال زیادہ خراب ہے جن کی تعداد تقریباً 15 فیصد ہے۔ 

انہوں نے صاف پانی اور نکاسی آب کے فقدان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان مسائل سے لوگوں کو کئی طرح کے طبی خطرات لاحق ہیں۔ ان میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہیں ایام حیض میں صحت و صفائی کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔ 

'یو این ایف پی اے' کی سربراہ نے غزہ میں امدادی کارکنوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ کارکن اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' کے عملے کے 100 ارکان اور دیگر امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔