انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این ایچ سی آر کو پاکستان میں افغان مہاجرین بارے تشویش

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck
افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔

یو این ایچ سی آر کو پاکستان میں افغان مہاجرین بارے تشویش

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان سے غیر رجسٹرڈ افغانوں کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عجلت اور خوف میں ملک چھوڑنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں بشمول رجسٹرڈ پناہ گزینوں اور قانونی دستاویز کے حامل افغانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

Tweet URL

یہ بات پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ فلیپا کینڈلر نے جینیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے آنے کے بعد وہاں جاری انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں کمی ہو رہی ہے جو بعض علاقوں میں منفی 4 تک گر گیا ہے۔

فلیپا کینڈلر نے بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت بہت سے افغان بدحالی کی کیفیت میں واپس آئے ہیں اور مناسب پناہ کے بغیر سخت سردی میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان کی جانب سے 3 اکتوبر کو غیرملکیوں کی واپسی کا منصوبہ لائے جانے کے بعد 374,000 سے زیادہ افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان مین سے بیشتر لوگ عجلت اور خوف میں واپس گئے ہیں۔ 

دھمکیوں، رشوت اور بدسلوکی کے الزامات 

یو این ایچ سی آر نے گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان کے بہت سے مقامات کا دورہ کر کے واپس جانے والے افغانوں اور ملکی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جن افغانوں سے بات کی گئی ان کا کہنا ہے کہ وہ عجلت  میں اور گرفتاری و قید کے خوف سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ 

اگرچہ رجسٹرڈ پناہ گزینوں پر حکومت کے اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لیکن مقامی حکام کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکانے اور گھروں کے مالکان کی جانب سے انہیں جگہ چھوڑنے کا حکم دینے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں پناہ گزین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ 

فلیپا کینڈلر نے کہا کہ ادارہ پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ قانونی حیثیت سے قطع نظر تمام افغان پناہ گزینوں کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار انداز میں ہونی چاہیے۔

یو این ایچ سی آر کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی تحفظ کے ضرورت مند لوگوں کی جانچ پڑتال کا نظام نافذ کرے، اور ان کا ادارہ پاکستان کو ایسا طریقہ کار وضع کرنے میں مدد کر سکتا ہے جس سے حکومت کے جائز خدشات کا ازالہ ممکن ہو گا۔

پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck
پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔

ہنگامی مدد کی ضرورت 

فلیپا کینڈلر کا کہنا تھا کہ افغانستان واپس آنے والے لوگ برے حال میں ہیں اور انہیں ہنگامی مدد کی ضرورت ہے۔ ان میں بہت سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں ہراساں کیا گیا، ان سے رشوت لی گئی اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کے پاس اپنا سامان باندھنے اور ملک چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ 

یو این ایچ سی آر  نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایسے حکام اور لوگوں کے خلاف کارروائی کے اعلانات کا خیرمقدم کیا ہے جو افغانوں سے رشوت لینے اور ان کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث ہیں۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے امدادی شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔

تاہم، فلیپا کینڈلر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دو تہائی سے زیادہ آبادی کو متاثر کرنے والے انسانی بحران کے ہوتے ہوئے یہ نہایت حوصلہ شکن کام ہے۔