غزہ میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی پہلے کوئی نظیر نہیں، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کی لڑائی میں جتنی بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اس کی حالیہ برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ان کا کہنا ہے کہ 2017 میں ان کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اب تک کسی تنازع میں اتنی بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک نہیں ہوئے۔
انہوں نے یہ بات گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق تازہ ترین رپورٹ کے اجرا پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
سیکرٹری جنرل نےکہا کہ جنگوں میں بچوں کو درپیش حالات پر ان کے دور میں جتنی بھی رپورٹ جاری ہوئی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ غزہ کی حالیہ لڑائی میں ہزاروں بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل یمن اور شام کی جنگوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد سیکڑوں میں تھی۔
انہوں نے غزہ کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کی درستگی پر بحث سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہے کہ چند ہفتوں میں ہزاروں بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے غزہ کی وزارت صحت کی جاری کردہ معلومات کو قابل اعتبار گردانتے ہیں۔
طبی حکام کی مہیا کردہ تازہ ترین اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 13 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ غیراہم بات نہیں اور انہوں نے بحیثیت سیکرٹری جنرل اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو جنگ کا ہدف بنتے نہیں دیکھا۔
ناقابل یقین بگاڑ
غزہ میں شدید بارشوں کے دوران شہریوں کی مشکلات بدترین صورت اختیار کر گئی ہیں جہاں 17 لاکھ افراد بے گھر ہیں اور ان کے پاس فضائی اور زمینی حملوں سے بچنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ غزہ کی صورت حال ناقابل یقین حد تک بگڑ چکی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے شمالی علاقہ خالی کرنے کے احکامات کے بعد بہت سے لوگ جنوب کی جانب جا چکے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت بڑی آبادی بدستور غزہ میں موجود ہے۔
سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کا اندازہ ہوتا ہے جبکہ وسیع علاقے میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
موقع پر لی گئی تصاویر میں بہت سے خاندان اپنا سامان اٹھائے پیدل چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ایک تصویر میں ایک خاتون اپنے دو بچوں کو کار کی نشستوں پر بٹھا کر انہیں گھسیٹتی نظر آتی ہے۔
پناہ گاہوں پر حملے اور ہلاکتیں
'انرا' کے ڈائریکٹر ٹام وائٹ نے امریکی ٹیلی ویژن اے بی سی کو بتایا ہے کہ ادارے کی 13 پناہ گاہوں پر براہ راست حملے ہو چکے ہیں جبکہ ان پر نشاندہی کے لیے اقوام متحدہ کے پرچم بھی موجود تھے۔ دیگر بے شمار پناہ گاہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن میں سے بیشتر غزہ کے جنوبی علاقے میں واقع ہیں۔
انہوں بتایا کہ 7 اکتوبر کے بعد ادارے کی پناہ گاہوں پر حملوں میں مجموعی طور پر 73 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بیشتر ہلاکتیں جنوبی غزہ میں ہوئیں۔ پناہ گاہوں سمیت ہر جگہ غزہ کے لوگ لڑائی اور خاص طور پر فضائی حملوں کا کھلا ہدف ہیں۔
غزہ بھر میں ادارے کی 154 پناہ گاہوں میں 880,000 سے زیادہ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ ادارے کے عملے کے 104 ارکان بھی لوگوں کو مدد پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔
کوئی علاقہ محفوظ نہیں
ٹام وائٹ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پوری پٹی میں رہائشی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو سب سے بڑی فکر یہ ہےکہ "آیا شمال ہو یا جنوب، کیا وہ کسی جگہ محفوظ ہوں گے؟"
یہ بحران 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں میں 12,00 افراد کی ہلاکت اور 240 افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 11 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔