انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم

ہالینڈ کے شہر ہیگ کا ’امن محل‘ جہاں عالمی عدالت انصاف بیٹھتی ہے۔
UN Photo
ہالینڈ کے شہر ہیگ کا ’امن محل‘ جہاں عالمی عدالت انصاف بیٹھتی ہے۔

شام پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم

انسانی حقوق

شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی روکنے کا حکم دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شام کی حکومت تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزاؤں کو روکنے کے لیے ہرممکن اقدامات کرے۔

Tweet URL

عدالت نے شام کے حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں، ان کی ہدایت پر یا ان کے زیراثر کوئی ادارہ یا فرد ایسے افعال کا مرتکب نہ ہو۔

جوابدہی کا پہلا موقع

کمیشن کے سربراہ پاولو پنہیرو نے کہا ہے کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث شام کے متعدد لوگوں کے خلاف درجنوں مقدمات چلائے جا چکے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ شام کی ریاست سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی منصفین کے روبرو تشدد کے خلاف کنونشن کی پامالیوں پر جواب دہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے شام میں تشدد، جبری گمشدگیوں اور قید خانوں میں اموات کو روکنے کے لیے یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ ملک میں 12 سال سے جاری خانہ جنگی میں حقوق کی ایسی پامالیاں عام رہی ہیں اور اس خانہ جنگی کی بنیادی وجوہ بھی یہی تھیں۔

شہادتیں محفوظ رکھنے کا حکم

عدالت نے اپنے فیصلے میں شام کو حکم دیا ہے کہ وہ کنونشن کی پامالی سے متعلق الزامات پر طبی ریکارڈ جیسی تمام شہادتوں کو یقینی طور پر محفوط بنائے۔

تحقیقاتی کمیشن کے رکن ہینے میگالے کا کہنا ہے کہ شام میں ہزاروں لوگ قید، تشدد، بدسلوکی اور گمشدگیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی دوران قید موت واقع ہو چکی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے ان تمام لوگوں کی انصاف کے لیے امیدیں جاگ گئی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کمیشن 2011 سے ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اسے لوگوں کو طویل مدتی اور بے پایاں تکالیف پہنچائے جانے کی براہ راست شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔ ایسے بہت سے واقعات میں قیدیوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی مصائب جھیلنا پڑے۔