غزہ: ایندھن کی کمی سے امدادی کام معطل ہونے کا خدشہ
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں ایندھن کی غیرموجودگی سے تمام امدادی اقدامات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ایندھن نہ ہونے سے علاقے میں مواصلاتی نظام بند ہو گیا ہے۔ غزہ کے جنوب میں 70 فیصد آبادی کو پینے کا پانی میسر نہیں رہا اور سیوریج گلیوں میں بہہ رہا ہے۔
جینیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور ادارے کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط اطلاعات کی تردید کی۔ لازارینی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سکولوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
'انرا' کو روکنے کی 'دانستہ کوشش'
فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ 'انرا' کے پاس بچا کھچا ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ اگر یہی حالات جاری رہے تو امداد کی ترسیل سے لے کر پانی کی فراہمی اور اے ٹی ایم مشینوں سے نقدی حاصل کرنے تک ہر کام متاثر ہو گا۔
رفح کے سرحدی راستے سے روزانہ نصف ٹرک ایندھن ہی موصول ہو رہا ہے جسے مصر سے آنے والے امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لازارینی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں 'انرا' کی امدادی کارروائیوں کو روکنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔
جلد کی بیماریوں کا پھیلاؤ
'انرا' کے سکولوں میں 8 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے جنہیں خوراک، پانی اور نکاسی آب کی مناسب سہولت میسر نہیں ہے۔ پناہ گاہوں میں 40 فیصد لوگوں کو جلد کی بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً چھ ہفتوں سے جاری تنازع میں ہونے والی مکمل تباہی کے نتیجے میں 1948 کے بعد سب سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں پر حملے
اگرچہ لوگوں کی بڑی تعداد شمالی علاقے سے نقل مکانی کر رہی ہے تاہم ایک تہائی ہلاکتیں غزہ کے جنوبی حصے میں ہوئی ہیں۔ غزہ میں اقوام متحدہ کے احاطوں سمیت کوئی بھی جگہ محفوط نہیں ہے۔
ادارے کی 60 فیصد سے زیادہ پناہ گاہوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں 60 سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 'انرا' کے 103 امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والے لوگ اقوام متحدہ کی جانب سے مخلصانہ طور سے ان لوگوں کی مدد کر رہے تھے جن کا بذات خود اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں۔
مذمت اور وضاحت
فلپ لازارینی نے 'انرا' کو لاحق تازہ ترین خدشات بشمول اس کے بارے میں پائی جانے والی 'غلط فہمی' اور ادارے سے متعلق پھیلائی گئی 'غلط اطلاعات' کا تذکرہ بھی کیا۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ایسی اطلاعات کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا ہے کہ 'انرا' کے سکول نفرت کا سبق پڑھاتے ہیں۔ لازارینی نے واضح کیا کہ ادارے میں نفرت پر مبنی اظہار، نسل پرستی اور تفریق، مخالفت یا تشدد پر اکسانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'انرا' اپنے اہلکاروں اور سکولوں کا نام اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے گھناؤنے حملوں سے جوڑنے کی مذمت کرتا ہے۔ ادارے نے ان حملوں کی کڑے ترین انداز میں مذمت کی ہے اور کرتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ 'انرا' نے غزہ میں آنے والی امداد کو مستحقین کے علاوہ کسی اور کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیا۔ ادارہ کسی کی مدد لینے کے بجائے اپنے پروگراموں پر خود عملدرآمد کراتا ہے۔
انرا کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ امداد کی وصولی کے عمل میں تمام ضوابط پر عمل ہوتا ہے اور ادارے کے عملے کے نام ہر سال اسرائیل کے حکام کو بھیجے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 'انرا' کا شمار ایسے اداروں میں ہوتا ہے جہاں جانچ پڑتال کا نظام انتہائی سخت ہے۔
اقوام متحدہ کے مراکز پر حملے
فلپ لازارینی نے بتایا کہ گزشتہ چھ ہفتوں میں اقوام متحدہ کے مراکز پر تواتر سے حملے ہوتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں 'انرا' کے متعدد سکولوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں بعض سکولوں میں ہتھیار ملنے اور اقوام متحدہ کے کم از کم دو سکولوں میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت وہ ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قوانین کی کھلی پامالی ہے جس سے 'انرا' کے ساتھیوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ایسے اقدامات کی مخالفت اور مذمت ہونی چاہیے۔