غزہ: جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر سلامتی کونسل میں قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی، علاقے میں امدادی مقاصد کے لیے محفوظ راہداریاں قائم کرنے اور حماس کی قید میں تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے قرارداد منظور کر لی ہے۔
15 رکنی سلامتی کونسل میں یہ قرارداد مالٹا کی جانب سے پیش کی گئی جو بچوں اور مسلح تنازعات پر کونسل کے ورکنگ گروپ کی سربراہی کر رہا ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 12 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ، روس اور برطانیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
روس کی ترمیم مسترد
رائے شماری سے قبل اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے نے قرارداد کے مسودے میں ترمیم پیش کی جس میں فوری، مستقل اور دیرپا جنگ بندی کے لیے کہا گیا تھا۔
رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے صدر اور چین کے سفیر نے یہ ترمیم رائے شماری کے لیے پیش کی۔ اس ترمیم کے حق میں 5 ارکان نے ووٹ دیا، امریکہ نے اس پر اعتراض کیا جبکہ 9 ارکان رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔ اس طرح مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ ملنے کے باعث یہ ترمیم منظور نہ کی جا سکی۔
یہ 7 اکتوبر سے غزہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پیش کی جانے والی پانچویں قرارداد ہے۔ اس سے پہلے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والے چار قراردادیں کسی رکن ملک کی جانب سے ویٹو کیے جانے یا مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ ملنے کے باعث ناکام رہی تھیں۔
قرارداد میں مطالبات
اس قرارداد میں طویل عرصہ کے لیے غزہ کی پٹی میں محفوظ راہداریاں قائم کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس سے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں اور اس کے شراکت داروں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے علاقے میں مکمل، فوری اور بلاروک و ٹوک رسائی میسر آئے گی۔ اس طرح شہریوں اور خاص طور پر بچوں کو بنیادی ضروریات اور خدمات کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امدادی مقاصد کے لیے جنگ بندی سے غزہ میں بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے اور بحالی کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔ ان میں تباہ شدہ عمارتوں میں لاپتہ بچے بھی شامل ہیں۔ جنگ بندی کی بدولت بیمار یا زخمی بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کا جنگ زدہ علاقے سے انخلا بھی ہو سکے گا۔
قرارداد میں حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے لوگوں خصوصاً بچوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ اس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فوری رسائی مہیا کی جائے۔
بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ
منظور کی جانے والی قرارداد میں تمام متحارب فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی شہری آبادی کو بنیادی خدمات اور انسانی امداد سے محروم نہ رکھیں۔ اس میں غزہ کے شہریوں کو محدود مقدار میں ہی سہی مگر ابتدائی طور پر فراہم کی جانے والی امداد کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس امداد کی مقدار شہری آبادی خصوصاً بچوں کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔
قرارداد میں تمام فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
اس میں طبی و امدادی عملے، گاڑیوں، امدادی مقامات اور اہم عمارتوں بشمول اقوام متحدہ کے مراکز کو تحفظ دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہم آہنگی، امدادی اطلاعات اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے متحارب فریقین کے مابین رابطوں کا طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ بھی قرارداد کا حصہ ہے۔
قرارداد میں امدادی قافلوں اور مریضوں خصوصاً زخمی بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔