مضر گیسوں کے اخراج میں کمی ہوتی نظر نہیں آ رہی، ڈبلیو ایم او
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 2022 میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ فضا میں خارج ہونے والی ان گیسوں کی مقدار متواتر بڑھ رہی ہے اور اس میں کمی آنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
ادارے کی شائع کردہ تازہ ترین رپورٹ 'دی گرین ہاوس گیس بلیٹن' کے مطابق معدنی ایندھن، کوئلے اور تیل و گیس کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑا حصہ ہے۔
یہ گیسیں سورج کی گرمی کو جذب کر لیتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی حدت بڑھتی ہے اور موسمیاتی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او2) کا اخراج قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں پورے 50 فیصد زیادہ رہا۔ رواں سال بھی اس میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے جو کہ سب سے بڑی مقدار میں خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیس ہے۔
فضا میں دوسری بڑی گرین ہاؤس گیس میتھین کی مقدار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر پائی جانے والی نائٹرس آکسائیڈ کی مقدار بھی 2021 سے متواتر بڑھ رہی ہے۔
یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس 'کاپ 28' کے انعقاد سے دو ہفتے پہلے آئی ہے۔ یہ کانفرنس رواں ماہ کے آخر میں دبئی میں منعقد ہو گی۔
دنیا کی بے سمتی
'ڈبلیو ایم او' کے سیکرٹری جنرل پیٹری ٹالس نے کہا ہے کہ دہائیوں تک سائنس دانوں کے متواتر انتباہ، ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کی اشاعت اور درجنوں موسمیاتی کانفرنسوں کے باوجود دنیا اس معاملے میں تاحال غلط سمت میں رواں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہی حالات قائم رہے تو رواں صدی کے آخر تک عالمی حدت میں اضافہ پیرس معاہدے کے اہداف سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ ایسا ہوا تو ممالک کو مزید کڑے موسمی حالات دیکھنے کو ملیں گے جن شدید گرمی، تند و تیز بارشیں، برف کا پگھلاؤ اور سطح سمندر، اس میں آبی حدت اور تیزابیت میں اضافے جیسی کیفیات شامل ہیں۔
اس معاہدے میں طے شدہ اہداف کی رو سے عالمی حدت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
ہنگامی توجہ کا معاملہ
پیٹری ٹالس نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے سماجی معاشی اور ماحولیاتی نقصانات بہت زیادہ ہوں گے۔ اس سے بچنے کے لیے معدنی ایندھن پر انحصار فوری ختم کرنا ہو گا۔
'ڈبلیو ایم او' نے بتایا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نصف سے قدرے کم مقدار ہی فضا میں موجود رہتی ہے۔ اس کا ایک چوتھائی سمندر اور 30 فیصد سے کچھ ہی کم زمینی ماحولی نظام جیسا کہ جنگلات میں جذب ہوتا ہے۔
جب تک گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج جاری رہے گا اس وقت تک کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں جمع ہوتی اور عالمی حدت میں اضافہ کرتی رہے گی۔
مزید برآں، اس گیس کی طویل عرصہ تک موجودگی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کے نتیجے میں بڑھنے والی حدت بھی کئی دہائیوں تک برقرار رہے گی خواہ اس کا مزید اخراج نیٹ زیرو سطح پر ہی کیوں نہ آ جائے۔
نیٹ زیرو سے مراد خارج ہوتی رہنے والی گرین ہاؤس گیسوں کی پوری مقدار کی فضا سے متواتر واپسی ہے۔
'جادو کی چھڑی موجود نہیں'
قبل ازیں کرہ ارض کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑے پیمانے پر ارتکاز 3 سے 5 ملین سال پہلے ہوا تھا۔
اس وقت عالمی درجہ حرارت میں 2 تا 3 ڈگری سیلسیئس اضافہ ہو گیا اور سطح سمندر معمول سے 10 تا 20 میٹر بلند ہو گئی تھی۔ پیٹری ٹالس کا کہنا ہے کہ فضا سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ختم کرنے کے لیے جادو کی کوئی چھڑی نہیں ہے۔
رواں برس 'ڈبلیو ایم او' نے 'گلوبل گرین ہاؤس گیس واچ' کے نام سے گرین ہاؤس گیسوں کے ارتکاز کی متواتر اور باقاعدہ نگرانی کے اقدام کا اعلان کیا تھا۔ اس کا ایک مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سمجھ بوجھ میں اضافہ کرنا اور اس مسئلے کی شدت میں کمی لانے کے اقدامات میں تعاون مہیا کرنا ہے۔
پیٹری ٹالس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مزید پُرعزم موسمیاتی اہداف پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے اس مسئلےکی بابت مشاہدے اور نگرانی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بہتر آئے گی۔