انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: بارشوں سے مسائل میں اضافہ جبکہ الشفاء ہسپتال کا محاصرہ جاری

غزہ کا الشفاء ہسپتال بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے۔
© WHO
غزہ کا الشفاء ہسپتال بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے۔

غزہ: بارشوں سے مسائل میں اضافہ جبکہ الشفاء ہسپتال کا محاصرہ جاری

امن اور سلامتی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے غزہ شہر میں زیرمحاصرہ الشفا ہسپتال کے عملے کی بہادرانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہزاروں بے گھر لوگوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے جنہیں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

ادارے کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارش سے لوگوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو جائے گا کیونکہ گندے پانی کے نکاس کے نظام کو نقصان پہنچانے اور پینے کی پانی کی قلت کے باعث علاقے میں پہلے ہی آبی ذرائع اور جراثیموں سے پھیلنے والی بیماریاں عام ہیں۔

Tweet URL

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انرا' کے جنوبی غزہ میں واقع مراکز میں 580,000 لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے اور یہ جگہیں گنجائش سے نو گنا زیادہ بھر چکی ہیں جس سے لوگوں کی صحت کو لاحق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ 

ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ وسط اکتوبر سے غزہ میں اسہال کے 33,500 سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اکثریت ہے۔ یہ عام حالات کے مقابلے میں 16 گنا بڑی تعداد ہے۔

طبی کارکنوں کی بہادرانہ کاوشیں

مارگریٹ ہیرس نے الشفا ہسپتال میں طبی عملے کی بہادرانہ کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 11 نومبر کو ہسپتال میں بجلی بند ہونے اور خوراک و صاف پانی کی قلت کے باوجود وہ اپنا کام جاری رکھنے کی ہرممکن کوششیں کر رہے ہیں۔

ہسپتال میں 700 مریضوں اور طبی عملے کے 400 ارکان کے علاوہ تقریباً 3,000 بے گھر لوگوں نے بھی پناہ لے رکھی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران ہسپتال میں 28 مریضوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی فوج نے الشفا ہسپتال کو انکیوبیٹر مہیا کرنے کی پیشکش کی ہے جہاں قبل از وقت پیدا ہونے والے 36 بچوں کو متواتر نگہداشت کی ضرورت ہے۔ بجلی کی فراہمی بند ہونے سے انکیوبیٹر غیرفعال ہو جانے کے باعث گزشتہ تین روز میں چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

الشفا ہسپتال اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا مرکز ہے جس کا دعویٰ ہے کہ حماس نے اس ہسپتال کے تہہ خانے میں اپنا کمانڈ سنٹر قائم کر رکھا ہے۔ تاہم طبی عملہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

ہسپتال سے مریضوں کے انخلا کے امکان کی بابت سوال پر مارگریٹ ہیرس نے واضح کیا کہ اس وقت الشفا ہسپتال میں جتنے مریض موجود ہیں انہیں زندہ رکھنے کے لیے طبی مدد کی ضرورت ہے۔ بہترین حالات میں بھی ان لوگوں کی وہاں سے منتقلی بہت مشکل ہوتی اور برستے بموں، مسلح لڑائی اور ایمبولینس گاڑیوں میں ایندھن کی قلت کے باعث ایسا کرنا کسی طور ممکن نہیں ہے۔

طبی مراکز پر ریکارڈ حملے

مارگریٹ ہیرس نے بتایا کہ ایک ماہ کے عرصہ میں طبی مراکز پر تقریباً 135 حملے ہو چکے ہیں اور یہ اس قدر مختصر وقت میں کسی جگہ طبی سہولیات پر ہونے والے حملوں کی اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوبارہ کبھی ایسے حالات رونما نہیں ہوں گے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کی ترجمان نے دنیا بھر میں طبی مراکز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کا تذکرہ بھی کیا جس کی مثال سوڈان اور یوکرین سمیت دیگر جگہوں پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ بات بھلا دی گئی ہے کہ ہسپتالوں کو محفوظ جگہ ہونا چاہیے جہاں لوگ علاج معالجے کے لیے آتے ہیں۔

غزہ میں بارشوں سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔
© WHO
غزہ میں بارشوں سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

یرغمالیوں کے خاندانوں کی جینیوا آمد

حماس کے ہاتھوں 7 اکتوبر سے غزہ میں یرغمال 238 افراد میں سے بعض کے اہلخانہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے شراکتی ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر مرجانا سپولجیرک سے ملاقات کریں گے۔ 

'آئی سی آر سی' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ادارے کی سربراہ اسرائیلی حکام سے بھی ملیں گی۔ ادارہ ان یرغمالیوں کی رہائی کے لیے متواتر کوششیں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں براہ راست حماس اور اس پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک اور حکام کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔