انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پلاسٹک آلودگی پر عالمی معاہدے کے لیے مزاکرات کا نیا دور

کینیا کے علاقے دندورا میں زمین بھرائی میں استعمال ہونے والے کوڑا کرکٹ میں سب سے زیادہ مقدار پلاسٹک کی ہوتی ہے۔
© UNEP
کینیا کے علاقے دندورا میں زمین بھرائی میں استعمال ہونے والے کوڑا کرکٹ میں سب سے زیادہ مقدار پلاسٹک کی ہوتی ہے۔

پلاسٹک آلودگی پر عالمی معاہدے کے لیے مزاکرات کا نیا دور

موسم اور ماحول

پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف عالمی معاہدے کی تیاری کے لیے بات چیت کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں جاری ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما اس مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ وضع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

دنیا میں ہر سال 430 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے اور اس کا دو تہائی استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے جس سے ماحول اور غذائی سلسلے کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔

Tweet URL

پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ بین الحکومتی مذاکراتی کمیٹی (آئی این سی۔3) کے اس تیسرے اجلاس میں ایک ایسے بین الاقوامی معاہدے کے ابتدائی مسودے پر بات چیت ہونا ہے جس کی پابندی تمام فریقین پر لازمی ہو گی۔ یہ مسودہ رواں سال کے آغاز میں جاری کیا گیا تھا جس کا مقصد اس بات چیت کو 2024 کے آخر تک مکمل کرنا ہے۔ 

اربوں ڈالر کا نقصان

'آئی این سی-3' میں 12 ذیلی اجلاس بھی ہوں گے جن میں پلاسٹک کی آلودگی کے متعدد پہلوؤں پر بات کی جائے گی جن میں پلاسٹک کی پائیدار طور سے تیاری اور استعمال، پلاسٹک کے حوالے سے دائروی طریق کار کی جانب منتقلی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ 

'آئی این سی' سیکرٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکرٹری جیوتی ماتھر-فلپ کے مطابق ماحولی نظام، موسمیات، معیشت اور انسانی صحت پر پلاسٹک کی آلودگی کے تباہ کن اثرات سے ہونے والا سالانہ نقصان 300 سے 600 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اگر موزوں اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 20 برس میں متوقع طور پر پلاسٹک کی آلودگی دو گنا بڑھ جائے گی۔ 

بات چیت کے شرکا پلاسٹک کی پیداوار میں کمی لانے، ایک مرتبہ اور مختصر مدت کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی چیزوں کا خاتمہ کرنے اور پلاسٹک کے متبادل کی جانب مراجت کی ضرورت کو واضح کر رہے ہیں۔

اس اجلاس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ماحول کو تحفظ دینے کے لیے 'گنوانے والی معیشت' کے بجائے 'بچانے والی معیشت' کی جانب منتقلی اختیار کرنا ہو گی۔

زیربحث مسودہ

اس اجلاس میں ہونے والی بات چیت کو اپریل 2024 میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں آگے بڑھایا جائے گا۔ عالمی برادری کو پلاسٹک کی آلودگی کے بحران کا سامنا ہے اور ان حالات میں 'آئی این سی-3' کے نتائج مستقبل کی جانب اہم قدم ہوں گے۔

اجلاس کے آغاز سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے 'آئی این سی' کے صدر گستاو میزا۔کوآڈرا ویلاسکوئز نے کہا کہ بات چیت کا نہایت اہم دور شروع ہونے کو ہے اور پہلی مرتبہ اس معاملے پر معاہدے کے مسودے کو لے کر گفت و شنید ہو رہی ہے۔