انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: یو این اداروں کی ہسپتالوں پر حملے نہ کرنے کی اپیل

غزہ کے الشفاء ہسپتال میں نومولود بچہ۔
© UNFPA/Bisan Ouda
غزہ کے الشفاء ہسپتال میں نومولود بچہ۔

غزہ: یو این اداروں کی ہسپتالوں پر حملے نہ کرنے کی اپیل

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے اداروں نے غزہ میں ہسپتالوں پر حملے بند کرانے کے لیے عالمی برادری سے ہنگامی اقدامات کے لیے کہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ 36 روز میں ہسپتالوں پر 137 حملوں میں 521 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنسی و تولیدی صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے غزہ شہر اور دیگر علاقوں میں ہسپتالوں پر حملوں میں بچوں سمیت بہت سے لوگوں کی ہلاکت کی اطلاعات کو ہولناک قرار دیا ہے۔

Tweet URL

فلسطینی ہلال احمر نے بتایا ہے کہ غزہ میں دوسرا بڑا ہسپتال 'القدس' ایندھن کی قلت کے باعث عملاً غیرفعال ہو چکا ہے اور ادارے کا اس طبی مرکز سے متواتر رابطہ قائم نہیں رہا۔ 

اسرائیل کی فوج نے ہسپتالوں کو ہدف بنائے جانے کی تواتر سے تردید کی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ حماس اور دیگر جنگجو طبی مراکز کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ان کا ہیڈکوارٹر الشفا ہسپتال کے تہہ خانے میں واقع ہے۔

مواصلاتی انقطاع 

'یو این ایف پی اے' کی لیلیٰ بکر، یونیسف کی ریجنل ڈائریکٹر آڈیل خودر اور 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈاکٹر احمد المندہاری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ کے متعدد ہسپتالوں کے قریب شدید لڑائی کے باعث طبی عملے، زخمیوں اور دیگر مریضوں کو علاج کے حصول کے لیے محفوظ رسائی نہیں مل رہی۔

عالمی ادارہ صحت کا غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا ہے جہاں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے پانچ زخمی دم توڑ گئے۔

بچوں کی اموات

الشفا ہسپتال میں قبل از وقت پیدا ہونے والے اور انتہائی نگہداشت میں رکھے گئے نومولود بچے بجلی، آکسیجن اور پانی کی فراہمی منقطع ہونے سے ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ دیگر کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ ہفتے کو اس ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں دو بچوں کی ہلاکت ہوئی۔

متعدد ہسپتالوں میں عملے کو ایندھن، پانی اور بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں ہیں جس سے تمام مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ ہسپتالوں پر حملوں میں ہلاک ہونے والے طبی کارکنوں کی تعداد 16 ہے جبکہ 38 زخمی ہوئے ہیں۔

طبی امداد کا حق

اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ طبی مراکز اور شہریوں پر حملے ناقابل قبول، ناقابل معافی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر بحرانوں کے وقت کسی کو طبی مدد حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ غزہ کی پٹی میں نصف سے زیادہ ہسپتال بند ہو چکے ہیں اور جو تاحال کام کر رہے ہیں ان پر مریضوں اور زخمیوں کا بہت زیادہ بوجھ ہے۔ 

پانی، خوراک اور ایندھن کی قلت سے ہزاروں بے گھر لوگوں کی صحت و زندگی کو بھی خطرہ ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے ان ہسپتالوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے جنگ میں پھنسے الشفا ہسپتال کے عملے اور مریضوں کی خیریت کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ہسپتال کے گردونواح میں اسرائیلی ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

موت اور مایوسی

تینوں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو محفوظ جگہ ہونا چاہیے جبکہ غزہ میں یہ موت، تباہی اور مایوسی کے مقامات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ایسے حالات میں دنیا خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔امداد کی فراہمی کے لیے فوری جنگ بندی، زندگیوں کا مزید ضیاع روکنے اور غزہ میں باقی ماندہ طبی سہولیات کو بچانے کی غرض سے فیصلہ کن بین الاقوامی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

بمباری میں غزہ کے تباہ حال علاقے میں ایک لڑکا پینے کے لیے پانی لا رہا ہے۔
© UNICEF/Eyad El Baba
بمباری میں غزہ کے تباہ حال علاقے میں ایک لڑکا پینے کے لیے پانی لا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زندگی کو تحفظ دینے کی ان خدمات کو جاری رکھنے کے لیے ایندھن، طبی سازوسامان اور پانی کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے علاقے میں بلاروک و ٹوک، محفوظ اور متواتر رسائی درکار ہے۔ 

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار لین ہیسٹنگز نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قلت سے ناصرف ہسپتالوں میں زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ پانی کی فراہمی کے پمپ، پانی صاف کرنے کی پلانٹ اور گندے پانی کے اخراج کے مراکز بھی بند ہونے کو ہیں۔ 

انہوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ غزہ میں صحت عامہ کا بحران جنم لے رہا ہے اور اس کے بعد امدادی کارروائیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔