انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان کی سسٹر زیف ’ دنیا کی بہترین استاد‘ قرار

پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی تقریب میں سسٹر زیف گلوبل ٹیچر پرائز وصول کر رہی ہیں۔
© UNESCO/Marie Etchegoyen
پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی تقریب میں سسٹر زیف گلوبل ٹیچر پرائز وصول کر رہی ہیں۔

پاکستان کی سسٹر زیف ’ دنیا کی بہترین استاد‘ قرار

ثقافت اور تعلیم

غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے والی پاکستان کی خاتون استاد سسٹر زیف کو  دنیا کے باوقار اعزاز ’گلوبل ٹیچر پرائز 2023‘ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے روشن مستقبل میں اساتذہ کے اہم کردار کی نمایاں مثال ہیں۔

سسٹر زیف کو اساتذہ کا عالمی اعزاز فروغ تعلیم کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے 'ورکی فاؤنڈیشن' کی جانب سے یونیسکو اور متحدہ عرب امارات کے غیرسرکاری فلاحی ادارے 'دبئی کیئر' کے اشتراک سے دیا گیا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے یہ اعزاز فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع یونیسکو کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں وصول کیا۔

اس موقع پر اساتذہ کے نام پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے باوجود دور حاضر میں دنیا کو مثبت طور سے تبدیل کرنے کے لیے تعلیم و تدریس جاری رہنا ضروری ہے۔

سسٹر زیف کا اصل نام رفعت عارف ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالا سے تعلق رکھتی ہیں۔ 1997 میں انہوں نے 13 سال کی عمر میں اپنے گھر کے صحن میں سکول کا آغاز کیا۔

وہ روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرکے حاصل ہونے والی آمدنی سے یہ سکول چلاتیں، اس میں چار گھنٹے پڑھاتیں اور اس کے بعد رات کے وقت خود پڑھتی تھیں۔ 

آج 26 سال بعد ان کا قائم کردہ فلاحی ادارہ 'زیڈ ڈبلیو ای ای فاونڈیشن' گوجرانوالہ کے 11 دیہات میں تقریباً 200 لڑکیوں کو 12ویں جماعت تک مفت تعلیم دے رہا ہے۔

عزم و استقلال کی مثال 

سسٹر زیف کو سماجی و صنفی تفریق سے درپیش مسائل اور مشکل معاشی حالات کے باعث ساتویں جماعت میں سکول چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم حاصل کی اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو معیاری اور بلامعاوضہ تعلیم دینے کے کام میں جت گئیں۔

اپنے پسماندہ اور غیرتعلیم یافتہ گاؤں اروپ میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے پر انہیں مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا بھی ہوا۔ تاہم انہوں نے کسی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہ کام جاری رکھا۔ 

2006  میں ان کے سکول پر مسلح افراد نے حملہ کیا اور اسے ختم کرنے کے لیے کہا۔ ایسے حالات میں ان کے خاندان کو کچھ عرصہ کے لیے اسلام آباد منتقل ہونا پڑا۔ تاہم جلد ہی وہ اپنے علاقے میں واپس آ گئیں اور نئے عزم سے درس و تدریس کا کام شروع کر دیا۔

ٹیکنالوجی کا استعمال

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں ترقی سے انہیں اپنا مشن آگے بڑھانے میں مدد ملی۔ 2008 سے انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کام کی تشہیر شروع کی جس سے انہیں سکول چلانے کے لیے مالی معاونت بھی میسر آئی۔

فروغ تعلیم کے کام پر 2014 میں انہیں لِن سیمز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس سے ملنے والی انعامی رقم سے انہوں نے اپنے سکول کو وسعت دی۔

سسٹر زیف لڑکیوں کو تعلیم دینے کے ساتھ انہیں اپنے دفاع کی تربیت بھی دیتی ہیں۔ وہ کم آمدنی والے ایسے بہت سے خاندانوں کو مالی مدد بھی مہیا کرتی ہیں جن کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا آسان نہیں ہوتا۔

ان کے ادارے کے زیراہتمام فنی تربیت کا اہتمام بھی ہے جس سے تقریباً چھ ہزار خواتین نے کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم، کپڑا بُننے اور انگریزی زبان سے واقفیت جیسی صلاحیتیں پائی ہیں۔

یونیسکو کی سربراہ آڈرے آذولے ’گلوبل ٹیچر پرائز‘ کی تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔
© UNESCO/Marie Etchegoyen
یونیسکو کی سربراہ آڈرے آذولے ’گلوبل ٹیچر پرائز‘ کی تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔

بہترین استاد کا عالمی اعزاز

اساتذہ کے عالمی اعزاز کا مقصد زندگی میں ترقی کے لیے بچوں کی ذہن سازی اور انہیں عملی زندگی میں مفید کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنے میں اساتذہ کی نمایاں کاوشوں کا اعتراف ہے۔

یہ اعزاز ہر سال کسی ایسے استاد کو دیا جاتا ہے جس نے ناصرف تدریسی میدان میں بہترین کام کیا ہو بلکہ اس کام سے مقامی لوگوں کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہو۔

امسال اس اعزاز کے لیے دنیا کے 130 ممالک سے 7,000 اساتذہ کو نامزد کیا گیا تھا۔ جن میں سے 10 اساتذہ کو ان کے کام اور سماجی خدمات کی بنیاد پر شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

دنیا بھر کے ان غیر معمولی اور قابل تقلید اساتذہ میں سے  سسٹر زیف کو گلوبل ٹیچر پرائز کا حتمی حقدار قرار دیا گیا۔

ایوارڈ دینے کی پیرس میں منعقد ہونے والی تقریب میں یونیسکو کی سربراہ آڈرے آزولے، برطانوی مصنف اور اداکار سٹیفن فرائے، اور کئی دوسرے نامور افراد نے حصہ لیا۔ اس موقع پر تدریس کے پیشے پر عالمی رپورٹ کا اجراء بھی کیا گیا۔

سسٹر زیف لڑکیوں کو تعلیم دینے کے ساتھ انہیں اپنے دفاع کی تربیت بھی دیتی ہیں۔
© UNESCO/Marie Etchegoyen
سسٹر زیف لڑکیوں کو تعلیم دینے کے ساتھ انہیں اپنے دفاع کی تربیت بھی دیتی ہیں۔

سسٹر زیف کا خواب 

سسٹر زیف حالیہ اعزاز کے ساتھ حاصل ہونے والی ایک لاکھ ڈالر انعامی رقم سے 10 ایکڑ رقبے پر ایک سکول قائم کرنا چاہتی ہیں جہاں ملک کے غریب ترین طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو کسی امتیاز کے بغیر معیاری تعلیم دی جائے گی۔ 

یتیم بچوں کے لیے پناہ گاہ بنانا بھی ان کا دیرینہ خواب ہے جہاں رہنے والے بچے اپنی خوراک خود اگائیں گے اور دنیا بھر کے اساتذہ انہیں بہت سے مضامین کی تعلیم دیں گے۔