انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل فلسطین بحران: تُرک کا یرغمالی رہا کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ

وولکر ترک اور ایک خاتون امدادی کارکن غزہ میں رفح کراسنگ پر کھڑے ہیں، جسے ایک صحافی فلمایا جا رہا ہے۔
© OHCHR انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک اپنے ادارے کی ترجمان روینہ شمداسانی کے ساتھ غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع علاقے رفع کے پاس کھڑے ہیں۔

اسرائیل فلسطین بحران: تُرک کا یرغمالی رہا کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے غزہ میں امداد پہنچانے، اسرائیل کے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور علاقے میں پھنسے لوگوں کو درپیش ہولناک حالات کا دیرپا طور سے خاتمہ کرنے کے لیے جنگ بندی کی اپیل کو دہرایا ہے۔

اردن کے دارالحکومت عمان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں پانی کمیاب ہے اور خوف کی بہتات ہے۔

Tweet URL

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تشدد بند کیا جائے، امدادی کارکنوں کو تحفط کی ضمانت دی جائے، ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے، لوگوں کو ضرورت کے مطابق خوراک، پانی، طبی سہولت اور پناہ مہیا کی جائے، یرغمالیوں کو رہا کیا جائے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث افراد کو بین الاقوامی انسانی قانون کی مطابقت سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ 

وولکر تُرک نے یہ بات ایسے موقع پر کی ہے جب غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے قریب ایک مرتبہ پھر بم باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس ہسپتال میں ہزاروں بے گھر لوگوں نے بھی پناہ لے رکھی ہے۔

حماس حملوں کے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ

ہائی کمشنر نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں پر سبھی کو دکھ ہونا چاہیے اور ان مظالم کا ارتکاب کرنے والوں کے محاسبے اور متاثرین کے نقصان کے ازالے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے 240 افراد کو رہا کرنے اور فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر اندھا دھند راکٹ باری بند کرنے کو بھی کہا۔

بچوں کا ہولناک نقصان

ہائی کمشنر نے مصر کے شہر رفح میں العریش ہسپتال کے اپنے دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں انہوں نے ایسے چھوٹے بچوں کو بھی دیکھا جو غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے بری طرح زخمی ہوئے تھے۔

 انہوں نے ان بچوں کو خوش قسمت قرار دیا جو بری طرح زخمی ہونے کے باوجود زندہ ہیں اور انہیں ضروری علاج معالجہ میسر ہے۔ 

دوسری جانب غزہ کے حکام کے مطابق علاقے میں ایک ماہ کے دوران 4,400 بچے ہلاک اور 26,000 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ معذور لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں جو آسمان سے برستے بموں تلے بے یارومددگار ہیں۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری محاصرے نے غزہ کے شہریوں کی زندگی اذیت ناک بنا دی ہے جنہیں اپنی بقا کے لیے درکار بنیادی چیزیں بھی میسر نہیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو دی جانے والی ہر اجتماعی سزا کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

21 اکتوبر کے بعد مصر سے رفح کی سرحد کے راستے 821 امدادی ٹرک غزہ آ چکے ہیں۔ اس بحران سے پہلے روزانہ تقریباً 500 ٹرک یہ سرحد عبور کرتے تھے۔

حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے بتایا ہے کہ تاحال شمالی غزہ میں مقیم ہزاروں لوگو تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔ اسرائیل کی شدید بمباری اور گنجان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں عمارتیں زمیں بوس ہو چکی ہیں۔

ان اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے وولکر تُرک نے کہا کہ غزہ میں اس وقت کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں پر بمباری کے باعث سلامتی کی ضمانتوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایسی کارروائیاں بند کرے اور ان حملوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ہر جگہ شہریوں کو تحفط ملنا چاہیے۔

امدادی کارکنوں کی ہلاکتیں ناقابل قبول

وولکر تُرک نے کہا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے عملے کے ساتھ پیش آنے والے حالات اور 'انرا' کے لوگوں کا جانی نقصان ایسے واقعات ہیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ 'انرا' کے سکولوں میں 600 پناہ گزینوں کا ہلاک و زخمی ہونا ناقابل قبول ہے۔ اقوام متحدہ کے احاطوں میں جنگی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'انرا' نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی بمباری شروع ہونے کے بعد اب تک اس کے 100 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

ہائی کمشنر نے ہسپتالوں پر اور ان کے قرب و جوار میں طاقتور فضائی حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون طبی مراکز کو خصوصی تحفط دیتا ہے اور انہیں ہر حال میں حملوں سے محفوط رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات کی آڑ لینا جنگی قوانین کے منافی ہے۔ تاہم اس سے اسرائیل کی عام شہریوں کا تحفط یقینی بنانے، اہداف میں تمیز کرنے اور حملوں کا متناسب جواب دینے کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔

فلسطینی خواتین اور بچے اکتوبر 2023 کو مغربی کنارے کے علاقے خیربٹ زانوٹا میں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے کے بعد دھات کی نالیدار چھت کو اکھاڑ کر ایک ٹرک پر لوڈ کر رہے ہیں۔
OCHA اسرائیلی آبادکاروں کی دھمکیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے کے علاقے نیبلس سے فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

مغربی کنارے میں تشدد 

مغربی کنارے کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے وولکر تُرک نے اسرائیل کے حکام پر زور دیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں جنہیں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کی جانب سے روزانہ تشدد، بدسلوکی، گرفتاریوں، بیدخلی، دھمکیوں اور تذلیل کا سامنا ہے۔

7 اکتوبر سے پہلے مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں تقریباً 200 اور اس کے بعد 176 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد سے زندگیوں اور روزگار کا نقصان ہو رہا ہے اور لوگ بے گھر ہو رہے ہیں جبکہ ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ 

ہائی کمشنر وولکر تُرک کو خطے کے اپنے دورے میں اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں داخلے کی تاحال اجازت نہیں دی گئی۔