انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: گرفتھس کا تحفظِ زندگی کے لیے جنگ میں وقفے کا مطالبہ

غزہ کے جنوبی حصہ کی رہائشی ایک خاتون بمباری میں تباہ ہو جانے والے اپنے گھر میں کھڑی ہیں۔
© UNICEF/Eyad El Baba
غزہ کے جنوبی حصہ کی رہائشی ایک خاتون بمباری میں تباہ ہو جانے والے اپنے گھر میں کھڑی ہیں۔

غزہ: گرفتھس کا تحفظِ زندگی کے لیے جنگ میں وقفے کا مطالبہ

امن اور سلامتی

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے غزہ میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی زندگی کو تحفط دینے کے لیے لڑائی میں معقول وقفے کی اپیل کی ہے۔

فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی سربراہی میں پیرس میں منعقدہ کانفرنس میں ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے حالات وہاں رہنے والوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں اور اس صورت حال کا برقرار رہنا مزید بگاڑ کا باعث بنے گا۔

Tweet URL

انہوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باعث ہزاروں لوگوں کو غزہ کے شمال سے جنوب میں "محفوظ علاقوں" کی جانب منتقلی کے حکم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ہر جگہ اور ہرطرح کے حالات میں تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔

بچوں کی قابل رحم حالت

اسی بات کو دہراتے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'انرا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے غزہ کے بچوں کو درپیش انتہائی مشکل حالات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے انہیں روٹی کے ٹکڑے اور پانی کے گھونٹ کے لیے ترستا دیکھ چکے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بے گھر ہو جانے کے باعث پناہ گاہیں گنجائش سے کہیں زیادہ بھر چکی ہیں اور بم باری میں پورے کے پورے علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ 

لازارینی نے خبردار کیا کہ خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت شہریوں کے لیے کڑی سزا کے مترادف اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مارٹن گرفتھس اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نمائندگی کر رہے ہیں جہاں انہوں نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے 240 افراد کے اہلخانہ سے اپنی ملاقاتوں کا احوال بھی سنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں لوگوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی بحال ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ اپنے عملے کو تحفط کی ضمانت ملنے تک اس کام میں مدد نہیں دے سکتا۔ 

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے مطابق بدھ کو مزید 50 ہزار لوگوں نے شمالی غزہ سے جنوب کی جانب انخلا کیا جن کے لیے اسرائیل کی فوج نے 'محفوط راہداری' کھولی ہے۔

مزید امداد کی ضرورت

مارٹن گرفتھس اور فلپ لازارینی نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔ اس لڑائی میں پہلے ہی بہت بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہوئے ہیں۔ 

انہوں نے بڑی تعداد میں امدادی ٹرکوں کو غزہ میں بلاروک و ٹوک رسائی دینے اور امداد کی فراہمی میں اضافے کے لیے غزہ کے ساتھ مزید سرحدی راستے کھولنے کے لیے بھی کہا جن میں اسرائیل کے ساتھ کریم شالوم کا راستہ بھی شامل ہے۔

لوگوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے 1.2 بلین ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ غزہ میں 22 لاکھ اور مغربی کنارے میں پانچ لاکھ فلسطینیوں کے لیے امدادی کارروائیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ 

یہ مالی وسائل جمع کرنا پیرس کانفرنس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔

'انرا' امید کی آخری کرن

فلپ لازارینی نے عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لیے تعاون بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'انرا' اس علاقے میں شہریوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے جس کا عملہ لوگوں میں خوراک اور پانی تقسیم کر رہا ہے اور خطرات کے باوجود پناہ گاہوں اور ہسپتالوں میں لوگوں کو مدد دے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے کا حالیہ تنازع میں بھاری نقصان ہوا ہے جس کے عملے کے 99 ارکان غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مالی وسائل میسر نہ آئے تو ادارے کے لیے رواں سال کے آخر تک اپنے کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہے گی۔

تنازع پھیلنے کے خدشات

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارٹن گرفتھس نے لبنان اور یمن میں تشدد بڑھنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے پھیلاؤ سے متعلق انتباہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہود مخالف اور مسلم مخالف بیانیے کے پھیلاؤ میں اضافے پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔ 

مارٹن گرفتھس کا کہنا تھا کہ شہریوں کو تحفط دینے، امداد کی رسائی یقینی بنانے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کثیرفریقی سفارتی کوششیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔