انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل اور حماس دونوں جنگی جرائم کے مرتکب ہیں: وولکر ترک

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے رفع میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔
© OHCHR
انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے رفع میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور حماس دونوں جنگی جرائم کے مرتکب ہیں: وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے اسرائیل اور حماس کے مابین فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مصر میں غزہ کے ساتھ رفح کے سرحدی راستے اور العریش ہسپتال کے دورے میں انہوں نے  خبردار کیا کہ موجودہ حالات ناصرف غزہ، اسرائیل اور مغربی کنارے بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ’فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے مظالم کا ارتکاب اور لوگوں کو اغوا کیا جانا جنگی جرائم کے مترادف تھے۔‘

Tweet URL

تاہم اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینا اور انہیں علاقہ خالی کرنے پر مجبور کرنا بھی جنگی جرم ہے۔

وولکر تُرک 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی جانب سے اسرائیل پر حملوں، ان میں 1,400 افراد کی ہلاکت اور 240 سے زیادہ لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کے بعد خطے کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے دوسرے اعلیٰ سطحی عہدیدار ہیں۔ ان سے قبل سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔

زندگی کی ضمانت اور جہنم کا دروازہ 

وولکر تُرک نے رفح کی سرحد کو غزہ کے 2.3 ملین لوگوں کے لیے زندگی کی ضمانت قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس راستے سے فلسطینیوں کودی جانے والی امداد غیرمنصفانہ طور سے انتہائی کم ہے۔ 

انہوں نے اس سرحد کو "جہنم کا دروازہ" بھی کہا جس کے پیچھے غزہ کے لوگوں کو متواتر بمباری، اپنے ہلاک ہونے والے عزیزوں کے غم، پانی، خوراک، بجلی اور ایندھن کے حصول کی جدوجہد جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر تواتر سے بمباری کی اور علاقے کا مکمل محاصرہ کرنے کے بعد زمینی حملہ شروع کر رکھا ہے اور شہریوں کو شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

ہائی کمشنر نے غزہ میں انسانی امداد کے لیے فوری جنگ بندی کی اپیل بھی کی اور غزہ میں ضروریات کے مطابق مدد کی فراہمی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینیوں کے علاقے پر قبضے کے مسئلے کا ایسا پائیدار حل نکالنے کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کے لیے کہا جس کے تحت فریقین پُرامن اور خودمختار طور سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔ 

حماس اور فلسطینیوں میں فرق 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی کارروائی میں کہیں کچھ واضح طور پر غلط ہے۔ 

حماس کی جانب سے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ روزانہ فلسطینیوں کی غیرمعمولی انسانی ضروریات سے متعلق خوفناک مناطر دنیا کے سامنے آنا خود اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس سے اسرائیل کے بارے میں عالمگیر رائے میں بہتری نہیں آئے گی۔ 

اسرائیل پر حماس کے حملوں کی کڑی مذمت کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حماس اور فلسطین کے عام شہریوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو انسانیت اپنے معنی کھو دے گی۔