نیپال: زلزلے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں نصف بچے ہیں
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ نیپال کے مغربی علاقے میں آنے والے زلزلے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے جنہیں سردی کے موسم میں ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرنا ہو گی۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 3 نومبر کو نصف شب آنے والے 6.4 شدت کے زلزلے میں 153 افراد ہلاک اور 338 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد متاثرہ علاقے میں 5.8 شدت کا ایک اور زلزلہ بھی آیا جس کے متاثرین خصوصاً بچوں میں مزید خوف پھیل گیا۔
نیپال میں یونیسف کی نمائندہ ایلس اکونگا نے کہا ہے کہ المناک طور سے اس تباہ کن زلزلے میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس آفت سے بچے غیرمتناسب طور سے متاثر ہوئے ہیں جنہیں سرد راتیں کھلے آسمان تلے گزارنا پڑ رہی ہیں۔ ان بچوں اور ان کے خاندانوں کو طبی مدد، پناہ، پینے کے صاف پانی، خوراک، کمبلوں اور گرم کپڑوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سردی کا موسم سر پر آ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور ہمالیہ میں سردی کے موسم کی آمد پر بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یونیسف ہرممکن امدادی اقدامات کر رہا ہے تاہم بچوں اور خواتین کو طبی خدمات، غذائیت، تعلیم، تحفظ، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صحت صفائی کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مزید مدد درکار ہے۔