اسرائیل فلسطین بحران: یو این اداروں کا غزہ میں رسائی کا مطالبہ
حماس کے ہاتھوں اسرائیل میں 1,400 ہلاکتوں اور 240 افراد کو یرغمال بنائے جانے سے ایک ماہ بعد غزہ میں اسرائیل کی بم باری میں 10 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جہاں اقوام متحدہ کے اداروں نے جنگ زدہ لوگوں کی مدد کے لیے محفوظ رسائی دینے کی اپیل ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسٹین لنڈمیئر نے زیرمحاصرہ غزہ میں اپنے ساتھیوں کی بات کو دہراتے ہوئے کہا ہےکہ "رسائی ضروری ہے۔ روزانہ ہم سمجھتے ہیں کہ آج بدترین دن تھا اور اگلا دن اس سے بھی زیادہ بدترین ہوتا ہے۔"
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے کہا ہے کہ غزہ میں ایک ماہ کے دوران دو تہائی سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
ان لوگوں کو اپنے تحفظ سے متعلق متواتر خدشات لاحق ہیں۔ علاقے میں 1.5 ملین لوگ غیرانسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہیں جنہیں روزانہ روٹی اور پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مواصلات کے باقاعدہ ذرائع منقطع ہو جانے کےبعد لوگ اپنے عزیزوں اور باقی دنیا کے ساتھ رابطوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
غزہ بھر میں 'انرا' کی 149 پناہ گاہوں میں موجود 717,000 لوگوں کا اسرائیلی عسکری کارروائیوں کی وجہ سے دیگر علاقوں کے ساتھ رابطہ نہیں رہا۔ شمالی غزہ کی پناہ گاہوں کے لوگوں کو بھی یہی حالات درپیش ہیں۔
روزانہ 160 بچوں کی ہلاکت
کرسٹین لنڈمیئر نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ موت اور تکالیف کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ علاقے میں اسرائیل کی بم باری اور 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق علاقے میں روزانہ اوسطاً 160 بچے ہلاک ہو رہے ہیں
انہوں نے حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے لوگ خوف و دہشت اور اپنے عزیزوں کی خیریت کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ یرغمال بنائے گئے بہت سے لوگوں کو فوری طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
سفارتی کوششیں
غزہ میں شہریوں کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر تُرک نے منگل کو قاہرہ سے خطے کا پانچ روزہ دورہ شروع کیا ہے۔
اس موقع پر وہ سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے لوگوں، متاثرین اور اقوام متحدہ کے ساتھیوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا اس کشیدگی میں بنیادی کردار ہے اور انسانی حقوق کا ہی تکالیف کے اس گرداب سے نکلنے میں مرکزی کردار ہو گا۔
وولکر تُرک قاہرہ سے اردن کے دارالحکومت عمان جانے سے پہلے مصر اور غزہ کے درمیان رفح کی سرحد کا دورہ بھی کریں گے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے ترجمان جینز لائرکے نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ کو غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے منگل کو پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
اس کانفرنس کا انعقاد فرانس کی حکومت نے کیا ہے۔ کانفرنس میں اقوام متحدہ کی نمائندگی کرنے والی شخصیات کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
کرسٹین لنڈمیئر نے اقوام متحدہ کی جانب سے متعدد مرتبہ کی گئی سابقہ اپیل کو دہراتے ہوئے کہا ہےکہ کم از کم امدادی مقاصد اور غزہ میں شہریوں اور یرغمالیوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے جنگ بندی کی غرض سے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔
امدادی ٹرک رسائی کے منتظر
'ڈبلیو ایچ او' کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کو جن ہولناک حالات کا سامنا ہے ان کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں، پانی، ایندھن، خوراک اور اپنی بقا کے لیے طبی خدمات تک رسائی کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے امدادی سامان سےلدے تقریباً 500 ٹرکوں کو غزہ میں بلاروک و ٹوک اور محفوط رسائی دینے کے لیے اقوام متحدہ کے مطالبات کا اعادہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہا اس امداد کو ناصرف مصر سے سرحد پار جانے بلکہ ہسپتالوں میں مریضوں تک پہنچنے کے لیے بھی محفوظ راستہ ملنا چاہیے جہاں جراحت حتیٰ کہ ناکارہ جسمانی اعضا کاٹے جانے کا کام بھی مریضوں کو بیہوش کیے بغیر ہو رہا ہے۔
حقیقی ہیرو
کرسٹین لنڈمیئر نے کہا کہ انہیں غزہ میں شدید مشکلات کے باوجود طبی نظام قائم رکھنے والے کارکنوں پر فخر ہے اور یہی حقیقی ہیرو ہیں جو شدید دباؤ میں بلاتکان کام کر رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے اپنے 16 طبی کارکنوں کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔ ادارے کا کہنا ہےکہ طبی خدمات کےمراکز پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہیں۔