نیپال زلزلہ: 160 افراد ہلاک، 13 لاکھ متاثرین
نیپال میں آنے والے زلزلے میں 160 ہلاکتوں کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔ زلزلے سے مجموعی طور پر 13 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور آئندہ دنوں میں اندازاً 25 لاکھ لوگوں کو انسانی مدد کی فوری ضرورت ہو گی۔
6.4 شدت کا یہ زلزلہ جمعے کی رات نیپال کے مغربی صوبے کرنالی میں آیا جس کا مرکز ضلع جاجرکوٹ میں تھا جو صوبائی دارالحکومت سرکھیت سے 65 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کٹھمنڈو اور انڈیا تک بھی محسوس کیے گئے۔
امدادی اداروں کے مطابق زلزلے سے ہونے والا نقصان ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے دور دراز متاثرہ علاقوں تک تاحال رسائی نہیں ہو سکی اور لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانے میں وقت درکار ہو گا۔
زلزلہ زدہ اضلاع روکوم اور بانکی کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی بہت بڑی تعداد لائی گئی ہے اور محدود سہولیات کے باعث صرف ایسے لوگوں کا ہی علاج کیا جا رہا ہے جن کی حالت زیادہ خراب ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کی امدادی کارروائی
نیپال میں اقوام متحدہ کی رابطہ کار ہانا سنجر حامدی نے کہا ہے کہ اس وقت امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانا پہلی ترجیح ہے۔ اس کے بعد طبی امداد اور لوگوں کی بحالی کے کام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو گرم کپڑوں، پناہ، حرارت، طبی خدمات اور خوراک کی فوری ضرورت ہے۔
یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیپال کا شمار کم ترین ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) میں ہوتا ہے اس لیے وہاں اقوام متحدہ کے ادارے اور اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں جو امدادی کام میں بھرپور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' اور 'ڈبلیو ایف پی' موسم سرما کی ضروریات اور طبی نگہداشت جیسی خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ 'یو این ایچ سی آر' بے گھر ہو جانے والے لوگوں کو پانی صاف کرنے کی گولیاں اور بیت الخلا کی سہولت دے رہا ہے تاکہ بیماریوں کے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کا سیٹلائٹ سنٹر 'یو این او ایس اے ٹی' مصنوعی سیارچوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں کی تصاویر لے کر زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہا ہے۔
اسی طرح 'یو این ایف پی اے' خواتین کو صحت و صفائی کا سامان مہیا کر رہا ہے اور یہ تمام اقدامات فوری طور پر اٹھائے جا رہے ہیں۔
تعمیراتی معیارات لاگو کرنے کی ضرورت
ہانا حامدی نے کہا کہ نیپال زلزلوں کی زد میں رہنے والا علاقہ ہے جہاں 2015 میں آنے والے 7.3 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ اُس آفت سے حاصل ہونے والے اسباق کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں زلزلوں سے بچاؤ اور ان سے ہونے والے نقصان کی شدت کو کم سے کم رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کی آگاہی میں بھی اضافہ ہوا ہے، تاہم اب بھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں زلزلے کے نقصانات میں کمی لانے کے لیے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور تعمیراتی معیارات سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ بھی نیپال کی حکومت کی معاونت کر رہا ہے۔