انسانی کہانیاں عالمی تناظر

متنوع حیاتیاتی کُرے ’قدرتی دنیا کے ساتھ امن قائم کر رہے ہیں‘

موزمبیق میں جنگلی حیات کا ایک مرکز۔
UNESCO/Quirimbas Biosphere Reserve, Mozambique
موزمبیق میں جنگلی حیات کا ایک مرکز۔

متنوع حیاتیاتی کُرے ’قدرتی دنیا کے ساتھ امن قائم کر رہے ہیں‘

موسم اور ماحول

جمعے کو محفوظ حیاتیاتی کروں کا عالمی دن منایا گیا اور اس موقع پر شہروں سے لے کر گھاس کے وسیع میدانوں اور پہاڑی چوٹیوں سے ساحلی جنگلات تک دنیا میں ایسے 748 مقامات کے تنوع اور ماحول دوست عالمی مستقبل میں ان کے کردار کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا۔

دنیا کے 134 ممالک میں واقع ان جگہوں کا پائیدار انداز میں استعمال حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بہتری کی ضمانت ہے۔ گزشتہ دو برس میں مزید 21 کروں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

Tweet URL

اس دن پر اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے 'یونیسکو' کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے آزولے نے کہا ہے کہ اس فہرست میں یہ تیزرفتار اس بڑھتی ہوئی آگاہی کا ثبوت ہے کہ اپنے طرز زندگی کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے پر ہی ہمارے مشترکہ مستقبل کا دارومدار ہے۔

حیاتیاتی کروں کی اہمیت 

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہ دن دور حاضر کے بہت بڑے مسائل پر قابو پانے میں حیاتیاتی کروں کے کردار اور فطرت کی دنیا کے ساتھ امن قائم کرنے کے عزم کا موقع ہے۔ یہ حیاتیاتی کرے انسان کو بہت کچھ دیتے ہیں۔ یہ روایتی طور سے محفوظ قرار دی گئی جگہیں نہیں بلکہ یہ ایسے مقامات ہیں جہاں 275 ملین لوگ رہتے اور کام کرتے ہیں۔ 

اس عالمی دن پر ان جگہوں کے تنوع، استحکام، ان سے حاصل ہونے والے علم اور ماحول دوست معیشت کے لیے ان کے کردار یا ان جگہوں پر قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے کام لینے جیسی مثالوں پر غور کیا جاتا ہے۔

یہ جگہیں ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انسان فطرت کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور ان کی وسعت کسی جزیرے کی واحد اور چھوٹی سی برادری سے لے کر کئی براعظموں میں پھیلے وسیع تر ماحولیاتی نظام کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ بہت سے قدیمی مقامی لوگوں کے مساکن بھی ہیں جو زمین کے بارے میں اہم سمجھ بوجھ اور علم رکھتے ہیں۔ 

تنزانیہ کا سیرینگیٹی۔گورنگورو حیاتیاتی کرہ اس کی مثال ہے جو 4.3 ملین ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ 

اس میں سیرینگیٹی نیشنل پارک اور گورنگورو کا محفوظ قرار دیا گیا علاقہ بھی شامل ہے۔ یہاں جنگلی درندوں، زرافوں، چیتوں، تیندووں اور بارہ سنگھوں تک ہزاروں جانور پائے جاتے ہیں اور یہ علاقہ قدیم ماسائی لوگوں کا مسکن بھی ہے۔ 

ترتیب نو اور اختراع

آڈرے آزولےکا کہنا ہے کہ ان حیاتیاتی کروں میں لوگ ماحول کے ساتھ اپنے تعلق کو نئی ترتیب دیتے اور اس میں نئی اختراع کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں موزوں اور باہم منحصر اہداف کے طور پر حیاتیاتی تنوع کے تحفط اور پائیدار ترقی کے طریقوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ 

خاص طور پر اس میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے جن میں بہت سے ایسے ہیں جو فطری دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے یونیسکو کی کاوشوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ 

آڈرے آزولے نے اپنے پیغام کے آخر میں ہر جگہ لوگوں کو کسی نہ کسی حیاتیاتی کرے کا دورہ کرنے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو ان جگہوں سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا جو واقعتاً اہم ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ قدرتی عجائبات کا گھر ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہاں غیرمعمولی لوگ رہتے ہیں۔